کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 10

رکعتوں کے مسنون ہونے کا اعلان کرتے رہتے ہیں ۔ اگر اس ’’شور و غوغا‘‘ نے آپ کی تقلیدی نیند حرام کر دی اور من بعثنا من مرقدنا کہ کر آپ اٹھے اور اس شور کو بند کرنے کے لئے ’’رسالہ بازی یا اشتہار بازی ‘‘ کی مہم میں اپنی شرکت بھی ضروری سمجھی تو پھر مستقلاً اپنے پورے مسلک کو زیر بحث لانے سے گریز کیوں فرمایا گیا ہے ۔ ’’دنیائے اسلام ‘‘ اور جمہور امت ‘‘ کی پناہ لے کر حنفیہ کے ادھورے مذہب کو صرف ضمناً اور طبعاً ذکر کرنے کا راز کہیں یہ تو نہیں کہ آپ کی ’’تحقیقاتِ علمیہ ‘‘کی زد خود حنفی مذہب پر پڑتی ہے اس لئے عوام کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے فرار کی راہ اس کے سوااورکوئی نظر نہ آئی کہ ’’دنیائے اسلام ‘‘ اور ’’جمہور امت ‘‘ جیسے مرعوب کن اور جذباتی الفاظ بول کر ذہنوںکی توجہ کو دوسری طرف مبذول کر دیا جائے اور حنفی مذہب والی بات کو یونہی گول مول رہنے دیا جائے ۔ یعنی مولانا حبیب الرحمن صاحب نے ۹۶صفحے کی اس کتاب میں حنفیہ کے مذہب کی بابت ہمیں مبہم طور پر صرف اتنا بتایا ہے کہ وہ بھی تراویح کی بیس ہی رکعتوں پر عامل ہیں ۔ نیز ان بیس رکعتوں کیساتھ ساتھ مولانا ہر جگہ بیس سے زائد رکعتوں کا تذکرہ بھی کرتے جاتے ہیں اور بظاہر بڑے زور بیان کیساتھ کرتے ہیں ۔ چنانچہ شروع ہی میں لکھتے ہیں : ’’تمام دنیا ء اسلام میں بیس یا بیس سے زیادہ رکعتیں پڑھی جاتی تھیں ۔ تقریباً ساڑھے بارہ سو برس تک تمام مسلمانانِ اہل سنت بیس اور بیس سے زائد ہی کو سنت اور قابل عمل سمجھتے رہے ۔ ساڑھے بارہ سو برس کے بعد فرقہ اہل حدیث نے یہ جدید انکشاف کیا کہ اب تک جو مسلمان کرتے یا سمجھتے رہے ہیں وہ صحیح نہیں ہے صحیح یہ ہے کہ صرف

  • فونٹ سائز:

    ب ب