کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 100

اب سوال ہے کہ کیا ’’علامہ‘‘ مئوی اس بات کا صاف صاف اعلان کریں گے کہ ان کے نزدیک صحابہ اور تابعین کی یہ نماز مکروہ تھی اور اسی مکروہ نماز کو انہوں نے اپنے مدعا کی دلیل بنایا ہے ؟ یا یہ تسلیم کریں گے کہ حنفی مذہب کا یہ مسئلہ ہی غلط ہے ؟ ۔ من نہ گویم کہ ایں مکن آن کن مصلحت بین و کار آساں کن علامہ مؤی سے تیسرا سوال مولانا گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے صراحۃً یہ ثابت نہیں ہوا کہ جب آپ نے اول رات میں تین روزترا ویح پڑھی تو اخیر وقت میں تہجد پڑھا یا نہیں ۔ واللہ اعلم ، مگر فعل بعض صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس کا نشان ملتا ہے ۔ چنانچہ ابو داؤد نے قیس بن طلق سے روایت کی ہے : ’’ اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ طلق بن علی نے اول وقت میں تراویح ادا کی اور بعد اس کے اپنی مسجد میں جا کر آخیر وقت میں تہجد ادا کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دونوں وقت میں نماز پڑھی گئی ۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اتباعِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نہایت سر گرم تھے ۔ سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے وقت میں تہجد پڑھا ہو گا ۔‘‘ (ملحصاً از الرای النجیح ص ۱۰) مولانا گنگوہی تو رحلت فرما چکے ہیں ۔ میں نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا ۔ اس لئے اب ان کے معتقد خاص ’’علامہ ‘‘ مؤی سے دریافت کرتا ہوں کہ جب

  • فونٹ سائز:

    ب ب