کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 101

صحابہ رضی اللہ عنہ اتباعِ رسول میں نہایت سرگرم تھے اور اسی بناء پر حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کے اس فعل سے یہ استنباط کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اول شب میں تراویح اور آخر شب میں تہجد پڑھا ہو گا ۔ تو کیا اسی کے ساتھ اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کے علاوہ تہجد بھی باجماعت پڑھا ہو گا ؟ بلکہ بقول آپ کے کے پڑھتے تھے یا پڑھتے رہے ہوں گے ؟ تو پھر مولانا گنگوہی نے دوسری جگہ یہ کیسے لکھ دیا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کو ہمیشہ منفرد پڑھتے تھے ‘‘ ۔ (الرأی النجیح ص۴) نیز جب فعل صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس کا نشان ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد باجماعت پڑھتے تھے یا کم از کم پڑھا ہو گا تو کیا ایک ایسا عمل جو سنت ہو ، یا کم سے کم یہ کہ مظنون السنتہ ہو اس کو مکروہ کہنا صحیح ہے ؟ نیز مولانا گنگوہی مرحوم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین روز جو تراویح پڑھی تھی تو ان تینوں راتوں میں آپ نے یہ نماز اول رات میں اس طرح ادا فرمائی تھی کہ آخیر رات میں اتنی گنجائش باقی رہ جاتی تھی کہ آپ اس میں تہجد پڑھ سکتے تھے ۔ حالانکہ اس واقعہ کے ایک عینی شاہد حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تیسری رات کی بابت تصریح فرماتے ہیں : فقام بنا حتی تخوفنا الفلاح (ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ص۷۳ ، ج ۲) یعنی اتنی دیر تک پڑھا کہ ہم ڈر گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سحری کھانے کا وقت ہی نکل جائے ۔ تو اس شب کے متعلق مولانا گنگوہی کا یہ احتمال کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے وقت میں تہجد پڑھا ہو گا ‘‘ ۔ مولانا

  • فونٹ سائز:

    ب ب