کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 102

گنگوہی نے تیسری بات کو اس احتمال سے مستثنٰی نہیں فرمایا ہے ، بلکہ وہ تینوں راتوں کی بابت فرماتے ہیں کہ ’’ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے صراحۃً یہ ثابت نہیں ہواکہ جب آپ نے اول رات میں تین روز تراویح پڑھی تھی تو آخیر وقت میں تہجد پڑھا تھا یا نہیں ۔ واللہ اعلم ۔ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ ‘‘۔ اہل حدیث کی انہی گرفتوں سے جان بچا کر نکل بھاگنے کے لئے ’’ علامہ ‘‘ مئوی نے حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کی تفصیلات ذکر نہیں کی ہیں ، لیکن افسوس ان کی یہ تدبیر کارگر نہیں ہوئی ۔ آخر ہم نے ان کو اپنی گرفت میں لے ہی لیا ۔ دیکھیں اب کس طرح وہ اپنی گلو خلاصی کرتے ہیں ۔ اہل حدیث کی پہلی دلیل کے متعلق ’’ علامہ ‘‘ مئوی کے پیش کردہ تمام مباحث ختم ہو گئے ۔ اب دوسری دلیل کے متعلق ان کی بحثوں کے جوابات سنئے !

  • فونٹ سائز:

    ب ب