کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 106

سے بغیر ردوکد کے یہ لکھا ہے : انکر الحدیث وصف فی الرجل یستحق به الترک لحدیثه (صفحہ ۱۹۱) اس تصریح کے بموجب ازروئے اصل عیسیٰ کی یہ روایت قابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ بالخصوص جب کہ حضرت جابر سے اس بات کو نقل کرنے میں وہ متفرد ہے دوسرا کوئی اس کا موید و متابع موجود نہیں ہے نہ کسی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کی شاہد ہے ۔ انتہیٰ بلفظہٖ ۔ اب اس کا جواب عرض کرتا ہوں : میزان الاعتدال او رتہذیب التہذیب کے حوالے سے علامہ مئوی نے یہاں جن ناقدین رجال کی جرحیں نقل کی ہیں وہ یہ ہیں : یحی بن معین ۔ امام نسائی ۔ امام ابو داؤد ۔ ساجی ۔ عقیل ابن عدی ۔ یہ کل چھ حضرات ہیں ۔ یہی تعداد ’’رکعات تراویح ‘‘ میں چھپی بھی ہے ، مگر اس کتاب کے آخر میں جو صحت نامہ لگایا گیا ہے اس میں اس تعدادکو غلط اور اس کی بجائے ’’ سات ‘‘ کو صحیح بتایا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہ کس حساب سے ۔ ہاں اگر حافظ ابن حجر کو بھی ان ناقدین میں شامل کر لیا جائے تو سات کی تعداد پوری ہو جائے گی ۔ کیوں کہ انہوں نے تقریب التہذیب میں عیسیٰ کی بابت لکھا : فیہ لین ۔ لیکن اگر ایسا تھا تو انکی اس جرح کو بھی یہاں نقل کرنا چاہئیے تھا ورنہ اس کے بغیر تو کہا جا سکتا ہے کہ انت لا تحسن الحساب ۔ بہر حال جارحین کی تعداد چھ ہو یا سات کسی صورت میں بھی ان جرحوں کی بنا پر اصول حدیث کے قواعد کی رو سے نہ عیسیٰ بن جاریہ مجروح قرار پائیں گے اور نہ ان کی یہ روایت ناقابل قبول ہو سکتی ہے ۔ علامہ مئوی یا تو اصول حدیث کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب