کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 107

قواعد سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر انہوں نے افسوس ناک تجاہل سے کام لیا ہے عیسیٰ پر کی گئی جرحوں کا مفصل جواب اور ان کی توثیق کا مدلل بیان :۔ اس لئے کہ اوّلاً تو عیسیٰ پر جتنی جرحیں کی گئی ہیں یہ سب کی سب مبہم اور غیر مفسر ہیں ۔ کیوںکہ کسی میں بھی سبب جرح کا بیان نہیں ہے ۔ مولانا عبدالحئ لکھنوی لکھتے ہیں : اعلم ان التعدیل وکذا الجرح قد یکون مفسر او قد یکون مبهما فالاول ما یذکر فیه المعدل او الجارح السبب والثانی ملا لا یبین السبب فیه ۔ الخ (الرفع والتکمیل ص ۶) اور جرح کے مبہم کے مقبول ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ تعدیل سے خالی ہو یعنی جس راوی پر جرح کی گئی ہے اس کی کسی ماہر فن محدث نے تعدیل و توثیق نہ کی ہو ۔ اگر کسی ایک معتبر و مستند محدث نے بھی اس کی توثیق کی ہو گی تو وہ جرح ناقابل مقبول و مردود ہو گی ۔ علامہ سیوطی لکھتے ہیں : والحاصل انه صئل عن صلوٰة النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی تلك اللیالی انها کم کانت فالجواب انها ثمان رکعات لحدیث جابر وان سئل انه هل صلی فی رمضان ولو احیانا عشرین رکعة فالجواب نعم ثبت ذلك بحدیث ضعیف فافهم انتهیٰ ۔ یہ علماء حنفیہ کے اقوال ہیں جن کے متعلق ہماری ذمہ داری صرف تصحیح نقل تک ہے ۔ آگے ’’ علامہ ‘‘ مئوی جانیں اور ان کے پیشرو اکابر ۔ حافظ ابن حجر نے بھی ان دونوں واقعوں کے ایک ہونے کے احتمال کو صحیح سمجھا ہے ۔ اسی لئے اس تقدیر پر انہوںنے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بیانات میں جو اختلاف ہے ا س کو دور کرنے کی ایک معقول توجیہہ پیش کی ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب