کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 11

آٹھ رکعتیں سنت اور قابل عمل ہیں۔‘‘ (رکعات ص ۱) چند بنیادی تنقیحات لیکن اس پوری کتاب میں مولانا نے یہ کہیں نہیں بتایا کہ حنفیہ جن بیس رکعتوں پر عامل ہیں فقہ حنفی کی رو سے ان کی نوعیت کیا ہے ؟ نیز ساڑھے بارے سو برس تک تمام دنیاء اسلام میں جن مسلمانانِ اہل سنت نے بیس سے زیادہ رکعتوں کو سنت سمجھا اور سنت سمجھ کر ہی ان پر عامل رہے تو کیا واقعی ان کا یہ سمجھنا حنفی مذہب کی رو سے بھی صحیح تھا ؟ کیا حنفیہ کے نزدیک جس طرح تراویح کی بیس رکعتیں مسنون ہیں ۔ اسی طرح بیس سے زائد رکعات بھی مسنون رہی ہیں ۔ یہ ہیں وہ بنیادی تنقیحات جن سے ہمارے مولانا نے مصلحتا اغماض فرمایا ہے ۔ حالانکہ یہ تنقیحات نہایت ضروری ہیں ۔ ان تنقیحات کے فیصلے کے بعد آدھی بحث ختم ہو جاتی ہے ۔ آیئے اب ہم آپ کو بتائیں کہ بیس اور بیس سے زائد رکعتوں کا حکم حنفی مذہب کی رو سے کیا ہے ۔ تراویح کی رکعات اور حنفی مذہب حنفی مذہب میں صلوٰۃ تراویح کی حیثیت عام نوافل کی سی نہیں ہے ۔ یہ ان کے نزدیک سنتِ مؤکدہ ہے اور جس طرح نفس تراویح سنتِ مؤکدہ ہے ۔ اسی طرح اس کی بیس رکعات بھی سنتِ مؤکدہ ہیں ۔ مولانا عبدالحئی حنفی رحمہ اللہ تحفتہ الاخیارؔ میں لکھتے ہیں: ۔ قد صرح اصحابنا بان التراویح سنة مؤکدة .....وصوحوا ایضا بان عشرین رکعة سنة مؤکدة ایضا۔ (ص ۱۵) اور سنت مؤکدہ کا حکم یہ ہے کہ عمداً اس کا ترک کر دینا گناہ اور موجب حرمانِ

  • فونٹ سائز:

    ب ب