کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 111
وقد رد علیہ العلماء رای علی العقیلی فی کثیر من المواضع علی جرحہ بقولہ لا یتابع علیہ وعلی تجاسرہ فی الکلام فی الثقات الاثبات انتہی (الرفع والتکمیل ص۲۸) مولانا حبیب الرحمن اعظمی نے خود عقیلی کے متعلق اپنی کتاب اعلام المرفوعہ میں لکھا ہے : ’’ اس کے علاوہ عقیلی سے اس باب میں (یعنی عطاء خراسانی کی تصنیف کے باب میں) سند پکڑنا غلط ہے ۔ اس لئے کہ محدثین ان کی تضعیف کا اعتبار نہیں کرتے ۔ (الاعلام ص۶) یہی مولانا حبیب الرحمن اپنی اسی کتاب (الاعلام المرفوعہ ص۸) میں امام نسائی کے متعلق لکھتے ہیں : ’’ ہاں نسائی نے ان کی (زبیر بن سعید کی ) تضعیف کی ہے ، مگر اولا ان کی جرح مبہم ہے ۔ دوسرے وہ متعنت ہیں ۔ لہٰذا ان کی تضعیف نامعتبر ہے‘‘ ۔ امام نسائی کتاب الضعفاء والمتروکین میں لکھتے ہیں : نعمان بن ثابت ابو حنیفة لیس بالقوی فی الحدیث انتہی حافظ ذہبی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پوتے کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : اسماعیل بن حماد بن النعمان بن ثابت الکوفی عن ابیہ عن جدہ قال ابن عدی ثلثتہم ضعفاء ۔ یعنی ابن عدی نے کہا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ او ر ان کے لڑکے حماد اور ان کے پوتے اسماعیل یہ تینوں ضعیف ہیں ۔ (میزان الاعتدال) ظاہر ہے کہ نسائی کی طرح ابن عدی کی اس جرح کو بھی کم از کم امام صاحب کے متعلق تو تعنت ہی قرار دیا جائے گا ۔ اس طرح جارحین عیسی میں سے