کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 113

ابو داؤد نے ان کی موافقت نہ کی ہوتی تو بقول مولانامئوی نسائی کی جرح قابل اعتبار نہ تھی ، کیونکہ وہ متعنت فی الجرح ہیں ۔ مولانا عبدالحئ لکھنوی لکھتے ہیں : فمثل هذا الجارح (ای المتعنت المتشدد ) توثیقه معتبر وجرحه لا یعتبر الا اذا وافقه غیره ممن ینصف ویعتبراٰه (الرفع والتکمیل ص۱۸) امام ابو داؤد کی موافقت لازمی تھی اگر کسی ماہر فن نے اس کی توثیق نہ کی ہوتی ، لیکن امام ابو زرعہ رازی اور ابن حبان بُستی جیسے ماہرین فن اور ائمۂ حدیث کی توثیق و تعدیل کے بعد ا سکا مجروح او رضعیف ہونا متعین نہیں رہا ، بلکہ کم از کم یہ کہ مختلف فیہ راوی قرار پائے گا اور مختلف فیہ راوی کے متعلق محدثین کا فیصلہ یہ ہے کہ جرح جب تک مفسر نہ ہو مقبول نہیں ۔ ہاںتعدیل مبہم بھی ہو تو اس کے حق میں معتبر ہے ۔ الرفع والتکمیل ۱۹ کے حوالے سے حافظ سخاوی کا جو کلام ہم نے اوپر نقل کیا ہے اس کو ایک بار پھر ملاحظہ کر لیجئے اور اسی کے ساتھ مندرجہ ذیل عبارتوں پر بھی غور کیجئے ۔ حافظ ابن حجر لسان المیزان کے دیباچہ میں لکھتے ہیں : اذا اختلف العلماء فی جرح رجل وتعدیله فالصواب التفصیل فان کان الجرح والحالت هذه مفسراً قبل والاعمل بالتعدیل فاما من جهل ولم یعلم فیه سوی قول امام من ائمة الحدیث انه ضعیف او متروك او نحو ذلك فان القول قوله ولانطالبه بتفصیر ذلك فوجه قولهم ان الجرح لا یقبل لا مفسرا بهو فیمن اختلف فی توثیقه وتجریحه انتهیٰ (الرفع والتکمیل ص ۱۰ ، ۱۱ )

  • فونٹ سائز:

    ب ب