کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 115

معلوم ہواکہ جس راوی کے متعلقفیہ لین یا لین الحدیث کہا ہو اس کی روایت قابل طرح وترک نہیں ہے ۔ امام دارقطنی سے پوچھا گیا کہ آپ جب فلانٌ لیّنٌ کہتے ہیں تو اس سے آپ کی کیا مراد ہوتی ہے ؟ انہوں نے کہا : لا یکون ساقطا متروك الحدیث ولکن مجروحا بشئ لا یسقط عن العدالة اٰه ۔ (ابن الصلاح النوع الثالث والعشرون ) اس سے صاف معلوم ہوا کہ امام دارقطنی جیسے ناقد رجال کے نزدیک ایسا راوی نہ ساقط العدالت ہے اور نہ اس کی حدیث قابل ترک ۔ حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں ہی اس کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ لین الحدیث کا لفظ وہ ایسے راوی کے حق میں بولتے ہیں جس کا اگرچہ کوئی متابع نہ ہو ، تاہم اس کے بارے میں کوئی ایسی بات بھی ثابت نہیں ہے جس کی وجہ سے اس کی حدیث قابل ترک ہو ۔ چنانچہ لکھتے ہیں : السادسة من الیس له من الحدیث الا القلیل ولم یثبت فیه ما یترك حدیثه من اجله والیهالاشارة بلفظ مقبول حیث یتابع والا فلین الحدیث انتهی (تقریب التہذیب ص۳)

  • فونٹ سائز:

    ب ب