کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 117

پس ائمۂ حدیث کی تصریحات اور اصول حدیث کے مسلّمہ قواعد کی رو سے جب عیسیٰ پر کی گئی تمام جرحیں غیر مقبول اور غیر ثابت ہیں اور اس کے مقابلے میں اس کی توثیق و تعدیل متحقق ہے تو اب کسی ناواقف فن کی یہ دھاندلی کون مان سکتا ہے کہ ’’ ازروئے اصل عیسیٰ کی یہ روایت قابل قبول نہیں ہو سکتی ‘‘ ۔ بلکہ اس کے برخلاف یہ کہنا چاہئیے کہ بلا شبہہ ازروئے اصول عیسیٰ کی یہ روایت صحیح، مقبول اور قابل احتجاج ہے ۔ تنبیہہ : ’’ علامہ ‘‘ مئوی نے ابن عدی کی جرح کا جو ترجمہ کیا ہے اور پھر قوسین میں جو اس کی تفسیر و توضیح کی ہے ، علم و فن کے اعتبار سے یہ دونوں ہی قابل گرفت ہیں ۔ تہذیب التہذیب میں اصل الفاظ یہ ہیں : وقال ابن عدی احادیثه غیر محفوظة ۔ ’’ علامہ مئوی اس کا ترجمہ کرتے ہیں : ’’ اور ابن عدی نے کہا ہے کہ اس کی حدیثیں محفوظ نہیں ہیں ۔ (یعنی شاذو منکر ہیں ) ۔ ’’ احادیثہ غیر محفوظۃ ‘‘ یہ جملہ منطقی اصطلاح کے اعتبار سے قضیہ موجبہ معدولۃ المحمول ہے اور ’’ فاضل‘‘ مئوی نے جو اس کا ترجمہ کیا ہے وہ قضیہ سالبہ بسیطہ ہے ’’موجبہ ‘‘ کو ’’ سالبہ ‘‘ بنا دینا کون کہہ سکتا ہے کہ یہ بالکل صحیح اور ناقابل گرفت ترجمہ ہے ۔ مانا کہ وجود موضوع کی صورت میںان دونوں میں تلازم ہوتا ہے ، لیکن وہ تحقق کے اعتبار سے ہے ۔ مفہوم کے اعتبار سے نہیں ۔ مفہوم کا تغایر تو بہر حال قائم رہتا ہے ۔ اس لئے ترجمہ میں ( جس میں مفہوم کا بیان ہوتا ہے ) یہ فرق ملحوظ ہونا چاہئیے ۔ لہٰذا اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ : ’’ اس کی حدیثیں غیر محفوظ ہیں ‘‘ ۔ یعنی محفوظ کا مقابل اور اس کا غیر ہیں ۔ جس کا اصطلاحًا شاذ کہتے ہیں ) ۔ ترجمہ کی اسی غلطی پر تفسیر کی یہ غلطی مبنی ہے کہ ’’ محفوظ ‘‘ کا مقابل

  • فونٹ سائز:

    ب ب