کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 118

’’شاذ‘‘ اور ’’ منکر‘‘ دونوں کو بنا دیا گیا ہے ۔ حالانکہ باصطلاح اصول حدیث ’’ محفوظ‘‘ کا مقابل صرف ’’ شاذ‘‘ ہے ۔ ’’ منکر‘‘ نہیں ۔ ’’ منکر‘‘ کا مقابل ’’ معروف‘‘ ہے ۔ جیساکہ شرح نخبہ میں ہے : فان خولف بارجح منه فالراجح یقاله المحفوظ ومقابله وهو المرجوح یقال له الشاذ ........وان وقعت المخالفة مع الضعف فالراجح یفاله المعروف ومقابله یقال له المنکر (ص۳۹ و ص۴۰) ثالثًا : محدثین کے اطلاقات میںمنکر الحدیث کا لفظ مختلف معانی میں مستعمل ہے ۔ بعض معنی کے اعتبار سے تو یہ سرے سے کوئی جرح کا لفظ ہی نہیں ۔ فضلا عن ان یکون جرحًا شدیدا ۔ چنانچہ حافظ عراقی لکھتے ہیں : کثیرا ما یطلقون المنکر علی الراوی لکونه روی حدیثا واحد انتهیٰ یعنی ’’ بسا اوقات محدثین کسی راوی پر منکر الحدیث کا اطلاق اس لئے کر دیتے ہیں کہ اس نے صرف ایک ہی حدیث روایت کی ہے ‘‘ ۔ (الرفع والتکمیل ص۱۴) بتائیے ! کیا صرف ایک حدیث کا راوی ہونا بھی کوئی جرح اور عیب کی بات ہے ؟ حافظ سخاوی فتح المغیب میں لکھتے ہیں : وقد یطلق ذلك علی الثقة اذا روی المناکیر عن الضعفاء (حوالہ مذکور ) یعنی کبھی یہ لفظ ثقہ راوی پر بھی بول دیتے ہیں ۔ جب کہ اس نے ضعیف راویوں سے منکر حدیثیں روایت کی ہوں ۔ حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں : قولهم منکر الحدیث لا یعلون به ان کل ما رواه منکر بل اذا

  • فونٹ سائز:

    ب ب