کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 119
روی الرجل جملة وربعض ذلک مناکیر فہو منکر الحدیث انتہیٰ (حوالہ مذکور) یعنی ’’ محدثین جب کسی راوی کی با بت منکر الحدیث کا لفظ بولتے ہیں تواس سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس کی جتنی روایتیں ہیں وہ سب منکر ہیں ، بلکہ اس کی چند روایتوں میں سے اگر بعض بھی منکر ہوں تو اس کومنکر الحدیث کہہ دیتے ہیں ‘‘ ۔ دیکھئے ! ان اطلاقات کے مفہوموں میں باہم کتنا فرق ہے ۔ اس لئے جب تک کسی معتبر دلیل سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ امام ابو داؤد وغیرہ نے عیسیٰ بن جاریہ کو کس معنی کے اعتبار سے منکر الحدیث کہا ہے اس وقت تک قطعی طور سے یہ حکم لگا دینا کہ ’’ اس کی یہ روایت قابلِ قبول نہیں ہو سکتی ‘‘ نری زبردستی ہے ۔ ایک شبہہ کا ازالہ :۔ ہم نے اپنے ثانی جواب میں دوسرے الفاظ جرح کے ساتھ ’’منکر الحدیث ‘‘ کو بھی جرح مبہم کہا ہے ۔شاید اس کے متعلق کسی کو شبہہ ہوا ہو ، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی سلسلہ میںاس کا ازالہ کر دیا جائے ۔سو پہلی بات تو یہ ہے کہ ابھی تیسرے جواب میںمعلوم ہوا کہ ’’منکر ا لحدیث ‘‘ کا لفظ محدثین کے نزدیک مختلف معانی میں مستعمل ہے ۔ اس لئے بغیر کسی قرینہ اور دلیل کے اس کی مراد کا مشتبہ اور مبہم ہونا ظاہر ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مستند علماء نے ا س کے جرح مبہم ہونے کی تصریح کی ہے ۔ چنانچہ علامہ ابو المحاسن السندی ثم المدنی لکھتے ہیں : فاذا احطت بہذاعلمت ان اقول من قال فی احد ہو منکر الحدیث جرح مجرد اذ حاصلہ انہ ضعیف خالف الثقات ولا