کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 120

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ (شاذ ومنکر کی جو تعریف ہم نے بیان کی ہے) اگر تم اس کا احاطہ کر لوگے تو جان لو گے کہ کسی محدث کا کسی راوی کے حق میں منکر الحدیث کہنا یہ ایسی جرح ہے جو بیان سبب سے خالی ہے (اس لئے یہ جرح مبہم ہے ) کیونکہ اس جرح کا حاصل یہ ہے کہ (انہ ضعیف خالف الثقات ) یہ راوی ضعیف ہے اور اسی کے ساتھ اس نے ثقات کی مخالفت کی ہے ۔ ہذا ضعیفٌ کہنا تو بلا شبہہ جرح مبہم ہے ۔ کیونکہ بہت ممکن ہے کہ تضعیف کرنے والے جارح نے جس امر کو موجب تضعیف سمجھ کر اس پر جرح کی ہے ، دوسرے مجتہد کے نزدیک یہ امر موجب جرح و تضعیف نہ ہو ۔ لہٰذا انکار کامفہوم اگر چہ واضح او رمفسر ہے مگر منکر الحدیث کامفہوم مفسر نہیں ۔ اس لئے کہ اس کا ایک جزو ’’ضعیفٌ‘‘ مبہم ہے (جزو کا ابہام کل کے ابہام کو مستلزم ہے ) پس ’’ منکر الحدیث‘‘ جرح مبہم ہے ۔ تفرد کا جواب :۔ عیسیٰ پر کی گئی ان نامقبول اور غیر ثابت شدہ جرحوں کا ذکر کرنے کے بعد ’’ علامہ ‘‘ مئوی نے اس روایت کے غیر مقبول ہونے کی ایک

  • فونٹ سائز:

    ب ب