کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 127
حافظ زین الدین عراقی شرح الفیہ میں لکھتے ہیں : فیہ(ای فی معرفة الثقات والضعفاء) لائمةالحدیث تصانیف منہا ما افرد فی الضعفاء وصنف فیہ البخاری ..... الیٰ ان قال وابن عدی ولکنہ ذکر فی کتابہ الکامل کل من تکلم فیہ وان کان ثقة وتبعہ علیٰ ذلک الذہبی فی المیزان انتہیٰ ۔ فتح المغیث میں ہے : وجمع الذہبی معظمہا فی میزانہ فجاء کتابا نفیسا علیہ معول من جاء بعدہ مع انہ تبع ابن عدی فی ایراد من تکلم فیہ ولو کان ثقة انتہیٰ اسی کے ساتھ حافظ ذہبی کا خود اپنا بیان بھی پڑھ لیجئے تو بات اور صاف ہو جاتی ہے ۔ میزان الاعتدال کے بالکل آخر میں لکھتے ہیں : فاصلہ وموضوعہ فی الضعفاء وفیہ خلق کما قدمنا فی الخطبة من الثقات ذکرتہم للذب عنہم اولان الکلام فیہم غیر مؤثر ضعفا انتہیٰ ۔ یعنی اس کتاب (میزان الاعتدال) کا اصل موضوع تو ضعفاء ہی کا تذکرہ لکھنا ہے ، لیکن ثقات کی ایک بڑی تعداد کا ذکر بھی اس میں آگیا ہے ۔ ان کا تذکرہ میں نے یا تو اس لئے کیا ہے کہ ان پر جو جرح و انکا رکیا ہے اس کاجواب دوں یا اس لئے کہ ان جرحوں سے ان کا ضُعف ثابت نہیں ہوتا ‘‘۔ انصاف سے کہیے ۔ اگر تصویر کے یہ دونوں رخ سامنے ہوتے توکیا اس وقت بھی یہ نتیجہ نکالا جا سکتا تھا کہ ’’ چونکہ عیسیٰ مجروح راوی ہے اور اس کی یہ روایت منکر اور ضعیف ہے ۔ اسی وجہ سے حافظ ذہبی نے اس کو میزان الاعتدال میں نقل کیا ہے ‘‘۔ یہ غلط نتیجہ تو اسی صورت میں نکلتا ہے جب کہ معاملہ کا وہی