کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 128

رخ سامنے ہو جو ’’ علامہ‘‘ مئوی نے پیش کیا ہے ۔ پھر اگر میں نے یہ کہا تو کیا غلط کہا کہ بات کا ایک رخ پیش کر کے صورت معاملہ مسخ کر دی گئی ہے ۔ اور ’’ ہاتھ کی صفائی‘‘ کا وہ کرتب دکھایاکہ دیانت سر پیٹ کر رہ گئی ۔ ’’ علامہ‘‘ مئوی نے اگر عصبیت سے کام نہ لیا ہوتا تو بات بالکل صاف تھی کہ عیسیٰ پر جو جرحیں کی گئی ہیں ، حافظ ذہبی کے نزدیک وہ موجب ضعف نہیں ہیں۔ اسی لئے جرحیں نقل کرنے کے بعد عیسیٰ کی یہ روایت پیش کر کے للذب عنهم اولان الکلام فیهم غیر مؤثر ضعفا کے مطابق انہوں نے اسنادہ وسط کہہ کر اس کی توثیق کر دی ۔ قولہ : اس پر اگر یہ شبہہ کیا جائے کہ حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس کو ذکر کرنے کے بعداس کی اسناد کو متوسط درجہ کی اسناد قرار دیا ہے ۔ لہٰذا میزان میں ذکر کرنے سے اس حدیث کا ضعیف و منکر ہونا ثابت نہ ہو گا ۔ نہ یہ لازم آئے گا کہ انہوں نے اس کوضعیف ومنکر سمجھ کر نقل کیا ہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً مولانا عبدالرحمن مبارک پوری نے ابکار المنن میں متعدد مقامات میں نہایت زور و شور سے یہ لکھا ہے کہ سند کے صحیح یا حسن ہونے سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا (ابکار المنن سے کچھ حوالے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں ) اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ حافظ ذہبی نے جو اپنی عادت کے مطابق عیسیٰ کی حدیث کو اس کے مناکیر میں ذکر کیا ہے اور اس کی اسناد کو متوسط کہا تو انکا مقصود یہ ہے کہ اسناد تو بہت گری ہوئی نہیں ہے ، لیکن حدیث کا متن منکر ہے ۔ (رکعات ص۲۹

  • فونٹ سائز:

    ب ب