کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 133

کسی دوسرے متقدم حنفی عالم کے جواب میں یہ کہا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں ، تو پھر مقلدانہ کیسے ہوا ؟ کیا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی یہ شہادت مان لینا کہ ’’ ذہبی نقد رجال میں اہل استقراء تام سے ہیں ‘‘ یہ تقلید ہے ؟ کیا ذہبی کی بادلیل بات کو مان لینا یہ تقلید ہے؟ تقلید پر جان دینے والے بھی اگر تقلید کو نہ سمجھیں تو اس کے سوا ہم اور کیا کہیں کہ : یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور قولہ : مولانا ہوتے تو ہم ان سے گزارش کرتے کہ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ (رکعات ص۳۱) ج : جب مولانا تھے تو اس وقت ’’ گزارش ‘‘ کرنے کی ہمت کیوں نہیں ہوئی ؟ کیا آپ نے مولانا کا زمانہ نہیں پایا ؟ کیا تحفۃ الاحوذی اور ابکار المنن یہ دونوں کتابیں مولانا کی زندگی میں شائع ہو کر ایوانِ حنفیت میں زلزلہ نہیں پیدا کر چکی تھیں ؟ اور آپ ان کے مطالعہ سے بہرہ مند نہیں ہو چکے تھے ؟ تحفۃ الاحوذی جلد ثانی (جس میں مسئلہ تراویح پر بحث کی گئی ہے ) ۳۴۹؁۱ھ میں شائع ہوئی ہے ۔ ابکار المنن (جس کے حوالے سے آپ نے معارضات پیش کئے ہیں ۳۳۸؁۱ھ میں شائع ہوئی ہے اور حضرت مؤلف علیہ الرحمۃ کی تاریخ وفات ۱۶ شوال ۳۵۳؁۱ھ ہے ۔ یعنی ابکار المنن کی اشاعت کے پندرہ برس بعد اور تحفۃ الاحوذی جلد ثانی کی اشاعت کے چار برس بعد ۔ کیا اتنی مدت میں آپ کو اپنی حسرت پوری کرنے کا موقع ہی نہ ملا ؟ در انحالیکہ ’’ مؤ ‘‘ اور ’’مبارک پور‘‘ دونوں قصبوں کا فاصلہ چندمیلوں سے زیادہ نہیں ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب