کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 134
اب۱۳۷۷ ھ میں جب کہ حضرت الشیخ نور اللہ مرقدہ کو وفات فرمائے ہوئے۲۴ سال اور تحفۃ الاحوذی جلد ثانی کو شائع ہوئے ۲۸ سال اور ابکار المنن کو شائع ہوئے ۳۹ سال ہو چکے ہیں ۔ آپ ہمارے سامنے اپنے دل کی یہ ’’حسرت ‘‘ظاہر فرماتے ہیں کہ ’’ اگر مولانا ہوتے تو ہم ان سے گذارش کرتے ۔‘‘ کیا کہنا اس ’’حسرت‘‘ کا ۔ ع : خود سوئے ماند ید حیار ابہانہ ساخت خیر مولانا تو اب نہیں ہیں ، لیکن ہم ان کے ادنیٰ ترین خدام موجود ہیں اور آپ کی خوش قسمتی سے آپ کے پڑوس ہی میں ہیں ۔ اپنی ہر ’’گذارش‘‘بے دریغ پیش کیجئے ۔ انشاء اللہ سب پر غور کیا جائے گا اور اللہ تعالی کی توفیق سے آپ کی ہر مراد پوری کی جائے گی ۔ لینصرن اللہ من ینصرہ قولہ : جب آپ نقدر جال میں ان کو ایسا باکمال تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اس باب میں جو بھی حکم فرمائیں وہی صواب ہے تو پھر الخ ۔ (رکعات ص ) ج : دیکھیے بات بگاڑ کر پیش نہ کیجئے اس سے آپ کی کمزوری ثابت ہوتی ہے ۔ اگر ہمت ہے تو واقعی جو بات جس طرح کہی گئی ہے ، اس پر کوئی معقول گرفت کیجیے۔ حضرت الشیخ مبارک پوری علیہ الرحمۃ نے ہر گز یہ نہیں کہا ہے کہ ذہبی نقدر جال کے باب میں ’’جو ‘‘حکم فرمائیں وہی صواب ہے ۔ یہ صریح افترا ہے جو کسی مسلمان کی شان نہیں ۔ چہ جائیکہ وہ ’’ محدثِ شہیر‘‘ اور ’’علاّمہ کبیر‘‘ بھی ہو ۔ گفتگو حافظ ذہبی کے قول اسنادہ وسط ۔پر ہو رہی ہے ۔ نیموی نے اس پر اعتراض کیا اور کہا : قول الذہبی اسنادہ وسط لیس بصواب بل اسنادہ دون وسط تو اس کے جواب میں حضرت الشیخ قدس سرہٗ نے فرمایا :