کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 135

سیاق کلام پر غور کیجئے ! صاف ظاہر ہے کہ حضرت الشیخ نے نیموی کے قول لیس بصواب کے جواب میں ذہبی کے اس فیصلہ کو ھوالصواب کہا ہے ۔ کوئی ضابطہ کلیہ نہیں بیان کیا ہے کہ ’’نقد رجال کے باب میں ذہبی جو حکم فرمائیں وہی صواب‘‘ ۔ اور پھر ذہبی کے اس فیصلہ کی مولانا نے جو تصویب فرمائی ہے تو محض تقلیداً نہیں بلکہ ساتھ ہی اس کی تین دلیلیں دی ہیں ۔ ۱۔ پہلی دلیل تو یہ دی کہ ذہبی نے یہ فیصلہ عیسی بن جاریہ کے متعلق جرح و تعدیل دونوں کے ذکر کرنے اور ان دونوں کے فرقِ مراتب کو سمجھنے کے بعد کیا ہے اور نیموی کی نگاہ صرف جرحوں پر ہے ۔ جیسا کہ مؤلفِ ’’رکعاتِ تراویح‘‘ کو خود اس کا اعتراف ہے ۔ لکھتے ہیں : ’’حافظ ذہبی کا اس کی اسناد کو وسط کہنا خود انہی کی ذکر کی ہوئی ان جرحوں کے پیش نظر جو انہوں نے عیسیٰ کے حق میں ائمہ فن سے نقل کی ہیں ۔ حیرت انگیز اور بہت قابل غور ہے ۔ اسی وجہ سے علامہ شوق نیموی نے اس کو ناصواب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ متوسط نہیں بلکہ اس سے بھی گھٹیا ہے ‘‘ ۔ ( ص ۳۱) ۔ بتائیے ! اس عبارت میں جرحوں کے سوا تعدیل کا بھی کہیں ذکر ہے بس جرحوں پر نگاہ ہے ۔ حالانکہ ذہبی نے امام ابوزرعہ کی تعدیل بھی نقل کی ہے وہ ابوزرعہ جن کی خصوصیات اور کمالِ فن کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تہذیب التہذیب میں تقریبا تین صفے میں ذکر کیے ہیں ۔ سب سے پہلا لفظ یہ ہے : ابوذرعۃ الرازی احد الائمۃ الحفاظ ۔ اسحق بن راہویہ نے ان کے متعلق کہا ہے : کل حدیث لا یعرفه ابوزرعة لیس له اصل (ابوزرعہ جس حدیث کو نہ پہچانیں سمجھ جاؤ کہ وہ حدیث بے اصل ہے ) ۔ اور اسحق بن راہویہ جنہوں نے ابوزرعہ کی یہ تعریف کی ہے خود ان کا مرتبہ کیا ہے ۔ حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں : ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب