کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 136

امیر المؤمنین فی الحدیث والفقه اسحق بن ابراهیم الحنظلی المعرون بابن راهویه (مقدمه فتح ص ۵) (یعنی وہ حدیث اور فقہ میں امیر المؤمنین ہیں ) ۔ یہاں یہ شبہ ہو سکتا تھا کہ ذہبی کی طرح نیموی کی نگاہ بھی جرح اور تعدیل دونوں پر ہے ۔ مگر نیموی کے نزدیک جرح کے مقابلہ میں تعدیل معتبر نہیں ہے ۔ اسی دخل مقدر کے دفع کرنے کے لئے حضرت الشیخ رحمہ اللہ نے حافظ ابن حجر رضی اللہ عنہ کی شہادت پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ جس فن میں گفتگو ہے اس میں ذہبی اور نیموی کا مقابلہ، ایک ماہر فن اور اناڑی کا مقابلہ ہے ۔ اس لئے ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ماہر فن کی بات مانی جائے گی ۔ اناڑی کی کون سنتا ہے ۔ فلا یلتفت الی ما قال النیموی ۲۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان دونوں نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ اپنی اپنی ’’صحیح‘‘ میں روایت کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب