کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 138

ہے ۔ قولہ : اور جب ذہبی کو آپ رجال کے حالات سے ایسا با خبر مانتے ہیں تو محمد بن عبدالملک کے حق میں جو انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ لیس بحجة یکتب حدیثه اعتباراً ، تو آپ نے اس کو یہ کہہ کر کیوں رد کر دیا کہ جرح من غیر بیان السبب فلا یقدح (ابکار المنن ص ۷۸ و رکعات ص ۲۱ ، ۲۲) ۔ ج : اس لئے رد کر دیا کہ ابکار المنن میں ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ محمد بن عبدالملک کی اس حدیث پر امام ابوداؤد اور امام منذری نے سکوت کیا ہے اور بقول علامہ نیموی ان دونوں کا کسی حدیث پر کلام کرنے سے سکوت کر جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث قابلِ احتجاج ہے ۔ وقال القاری فی المرقاة قال النووی حسن نقله میرک و قال ابن البهمام اسناده صحیح انتهی وقال الشوکانی فی نیل الاوطار صححه ابن خزیمة انتهی ان اقوال سے بھی محمد بن عبدالملک وغیرہ جو اس حدیث کے راوی ہیں ان کی تعدیل ثابت ہوتی ہے ۔ ان کے علاوہ ابکار المننن میں صراحۃ بھی یہ بتا دیا گیا ہے کہ محمد بن عبدالملک کی امام ابن حبان نے توثیق کی ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تقریب التہذیب میں ان کو ’’مقبول‘‘ کہا ہے اور پچھلے صفحات میں محدثین کے اس قاعدہ کا حوالہ گذر چکا ہے کہ جب کسی راوی کی تعدیل و توثیق کسی حاذق اور ماہر فن محدث نے کی ہو تو اس کے حق میں جرح مفسر ہی مقبول ہو گی ۔ غیر مفسر اور مبہم جرحوں کا اعتبار نہ ہو گا ۔ ذہبی کو رجال کے حالات سے ’’ایسا با خبر‘‘ آپ کے ’’علامہ‘‘ نیموی کے مقابلے میں مانا گیا ہے ۔ یہ نہیں کہا ہے کہ دنیا میں کوئی محدث ذہبی کے ٹکر کا گذر

  • فونٹ سائز:

    ب ب