کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 14

النہر الفائق میں ہے : ۔ وسن فی رمضان عشرون رکعة بجماعة وهو ظاهر فی انها علی الاعیان وهو قول المرغینانی والصحیح الذی علیه العامة انها علی الکفایة حتی لو ترکها کل اهل المسجد اثموا انتهی اور در مختار میں ہے : ۔ والجماعة فیها سنة علی الکفایة فی الاصح فلو ترکها اهل المسجد اثموا انتهی فقہ حنفی کی تمام چھوٹی بڑی کتابوں کی ورق گردانی کر جائیے ۔ پوری قوت صرف کرنے کے باوجود کوئی گھٹیا سے گھٹیا سے ثبوت بھی آپ کو اس بات کا نہیں ملے گا کہ حنفی مذہب کی رو سے تراویح کی بیس رکعتوں سے زیادہ کا بھی وہی حکم ہے جو بیس رکعتوں کا ہے ۔ بیس سے زائد مندوب ہیں ۔ثواب کی نیت سے الگ الگ تو پڑھی جاسکتی ہیں ، لیکن جماعت کے ساتھ ان کا ادا کرنا باتفاق حنفیہ مکروہ اور ممنوع ہے ۔ کسی نے بھی ان کا سنت ہونا تسلیم نہیں کیا ہے ۔ ہماری اس تمہید کو سامنے رکھ کر اب ذرا ’’ساڑھے بارہ سو سال ‘‘ کے تعامل والی فہرست کو ایک مرتبہ پھر پڑھ جائیے جو مؤلف ’’رکعات تراویح ‘‘ نے شروع کے پانچ صفحات میں پھیلا کر پیش کی ہے اور اس فہرست میں سے ان حضرات کے ناموں کو چن کر الگ کر لیجئے جن کے متعلق بیس رکعات سے زیادہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب