کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 140

ملا حظہ کیجئے ۔ اس قاعدہ کی رو سے ذہبی کے دونوں فیصلوں کے درمیان وجہ فرق بالکل ظاہر ہے یعنی لیس بحجة یہ جرح ہے ۔ اس لئے مختل فیہ راوی (محمد بن عبدالملک) کے حق میں بغیر سبب بیان کئے ہوئے معتبر نہیں اور اسنادہ وسط یہ تعدیل ہے ۔ اس لئے مختلف فیہ راوی (عیسی بن جاریہ) کے حق میں بلا سبب بیان کئے ہوئے بھی معتبر اور مقبول ہے کہئے جناب ! اب تو بے انصافی نہیں ہے ؟ ۔ یہ بھی سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا حوالہ ’’صرف آپ پر رعب جمانے کے لئے نہیں ‘‘ ہے ، اپنے عمل کے لئے بھی ہے ۔ قولہ : اس سے بڑھ کر تعجب کی بات جو مولانا کی شان تقدس اور عالمانہ احتیاط کے بالکل منافی ہے یہ ہے کہ انہوں نے حافظ ابن حجر کا کلام بالکل ادھورا نقل کیا ہے اور ابن حجر نے ان کو اہل استقرء تام قرار دے کر ان کے جس فیصلہ کی اہمیت و قوت ظاہر کی ہے ، اس کو بالکل چھوڑ گئے ۔ اور اس کی جگہ اپنی طرف سے ذہبی کے ایک دوسرے فیصلہ کی قوت ثابت کرنے لگے ۔ (رکعات ۳۲) ۔ ج : اولاً ان سب سے بڑھ کر تعجب تو آپ کے اس نرے پروپیگنڈائی اعتراض پر ہے جو خود آپ کی ’’شان تقدس‘‘اور عالمانہ احتیاط‘‘ کے بالکل منافی ہے ۔ کسی کا کلام ’’ادھورا‘‘ نقل کرنا اس صورت میں قابل اعتراض اور مستحق ملام ہے ، جب اس کلام کے بعض حصے جو اپنے مذہب اور مطلب کے لئے مفید معلوم ہوں ، ان کو لے لیا جائے اور جو حصہ اپنے مسلک اور مطلب کے لئے مضر یا خلاف معلوم ہو اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ جیسا کہ آپ نے خود اسی ’’رکعاتِ تراویح‘ ‘ کے بیشتر

  • فونٹ سائز:

    ب ب