کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 145

قولہ : (حافظ ذہبی کے اس قول سے کہ کسی ’’ثقہ راوی کو ضعیف قرار دینے پر دو ماہرین فن کا اتفاق نہیں ہوا ہے ۔ اسی طرح کسی ضعیف راوی کو ثقہ قرار دینے پر بھی دو ماہرین فن متفق نہیں ہوئے ہیں ، ۔ (علامہ مئوی نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ) (عیسی بن جاریہ جو حدیث جابر و زیر بحث) کا بنیادی راوی ہے ۔ چھ چھ ماہروں نے اس کی تضعیف کی ہے ۔ لہذا ذہبی کے قاعدہ سے وہ ضعیف نہیں ہو سکتا (۱) دو ماہروں نے اس کی توثیق بھی کی ہے ۔ لہذا اس قاعدہ سے وہ ضعیف بھی نہیں ۔ اور جب وہ ثقہ بھی نہیں اور ضعیف بھی نہیں تو ظاہر ہے کہ اس کا حکم مجہول الحال کا ہو گا اور اس کی حدیث کا رد قبول اس کا قرار واقعی حال ہونے پر موقوف ہو گا ۔ حاصل یہکہ اس صورت میں بھی اس کی حدیث کار آمد نہیں ہو سکتی (رکعات ص ۳۳) ج : ذہبی کے اس فیصلہ پر خود حافظ ابن حجر نے جو تفریع ذکر کی ہے وہ یہ ہے لکھتے ہیں : ولهذا کان مذهب لسائی ان لا یترك حدیث الرجل حتی یجتمع الجمیع ترکه انتهی ’’یعنی اسی وجہ سے امام نسائی کا مذہب یہ ہے کہ کسی راوی کی حدیث اس وقت تک ترک نہیں کی جائے گی جب تک اس کے ترک پر سب متفق نہ ہو جائیں ‘‘ ۔ حافظ (۱) اصل کتاب میں ایسا ہی ہے ۔ صحت نامہ میںبھی اس کو درست نہیں کیا گیا ہے (حالانکہ اسی سطر کی ایک دوسری غلطی کی اصلاح کی گئی ہے) لیکن یہ غلط ہے ۔ صحیح یہ ہے کہ ’’وہ ثقہ نہیں ہو سکتا ‘‘ ۔ رحمانی ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب