کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 148

اپنے علمائے احناف کے فیصلے کے خلاف بھی ایک مقبول حدیث کو رد کرنے کی کوشش کی ہے ۔ حنفی علماء اور غیر حنفی علماء کی شہادتیں (۱) امام ابن حبان اور ان کے استاذ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ ان دونوں حضرات نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کوا پنی اپنی ’’صحیح‘‘ میں روایت کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کے نزدیک بلا شبہ یہ حدیث صحیح ہے ۔ حافظ ابن الصلاح اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں : ویکفی مجرد کونه موجود انی فی کتاب من اشترط منهم الصحیح فیما جمعه ککتا ب ابن خزیمة الخ (ص۹ طبع مصر) یعنی کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ وہ ان کتابوں میں موجود ہے جن کے مؤلفین نے اپنی کتابوں میں صحیح احادیث لانے کا التزام کیا ہے ۔ جیسے ابن خزیمہ کی کتاب ’’ الصحیح لابن خزیمہ ‘‘ ۔ ’’ علامہ‘‘ مئوی نے ایک دو جگہ نہیں بلکہ اپنی کتاب کے متعدد مقامات میں ابن الصلاح کے اقوال کو استنادًا و احتجاجًا بڑے شدو مد سے پیش کیا ہے ۔ دیکھیں اب وہ اس حوالہ کی بابت کیا فرماتے ہیں ؟ اسی سے اندازہ ہوگا کہ ابن الصلاح کا نام بار بار صرف ہم پر رعب جمانے کے لئے لیا گیا ہے یا اپنے عمل کرنے کے لئے بھی ہے ؟ (۲) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے تراویح کا عدد ثابت کرنے کے لئے اسی روایت کو پیش کیا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں : ولم ارفی شیئ من طرقة بیان عدد صلوته فی تلك اللیالی لکن روی ابن خزیمة وابن حبان من حدیث جابر قال صلی بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان ثمان رکعات ثم اوتر الحدیث ۔ (فتح الباری طبع ولی ص۵۹۷)

  • فونٹ سائز:

    ب ب