کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 149

حافظ رحمہ اللہ نے اس روایت پر قطعًا کسی قسم کی کوئی جرح نہیں کی ہے ، بلکہ بلا کسی ردّ و انکار اور جرح وقدح کے اسستدلالاً اس کو پیش کیا ہے ۔ مولانا مئوی کے اختیار کردہ اصول کے مطابق یہ زبردست دلیل ہے ۔ اس بات کی کہ حافظ کے نزدیک یہ روایت بلا شبہہ صحیح اور قابل احتجاج ہے ۔ (۲) دوسری بات یہ ہے کہ احناف وتر کے وجوب کے قائل ہیں ۔ حافظ ابن حجر نے درایہ فی تخریج احادیث الہدایہ میں ان کے اس مسلک کی تردید کی ہے اور حنفیہ کے خلاف دلیل میں اسی حدیث کو پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں : ویعارض القول بوجوبه حدیث جابر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قام بهم فی رمضان فصلی ثمان رکعات واوتر ثم انتظروه من القابلة فلم یخرج الیهم فسالوه فقال خشیت ان یکتب علیکم الوتر اخرجه ابن حبان هکذا انتهی ۔۱۱۳ ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حدیث نامقبول نہیں ہے ۔ بلکہ مقبول اور قابل احتجاج ہے ۔ (۳) علامہ جلال الدین سیوطی نے ابن عبدالبر کا یہ قول بلا ردّ و انکار نقل کیا ہے : واخرج ابن حبان فی صحیحه من حدیث جابر انه صلی اللہ علیہ وسلم صلی بهم ثمان رکعات ثم اوتر وهذا صح انتهیٰ۔ (تنویر الحوالک

  • فونٹ سائز:

    ب ب