کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 15

تراویح پڑھنے یا پڑھانے کا ذکر ہے اوردیکھئے کہ کیا ان حضرات میں سے کسی ایک کے متعلق بھی یہ تصریح ہے کہ بیس رکعتیں تو انہوں نے اس جماعت کیساتھ پڑھی تھیں اور باقی رکعتیں جماعت سے الگ ہو کر انفراداً پڑھی تھیں ۔ ہر گز اس قسم کی کوئی بات آپ کو وہاں نہیں ملے گی ۔ بلکہ اس کے بر خلاف یا تو صراحت ہے یا قرائن قویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہون نے یہ تمام رکعتیں جماعت ہی سے ادا کی تھیں ۔ پس حنفی مذہب کی رو سے ان تمام حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ و تابعین رحمہ اللہ اورائمہ دین کی یہ نمازیں مکروہ اور فاسد ہیں بلکہ علی قول لبعض بدعت اورضلالت ہیں ۔ (عیاذاً بالله ) یہ تو بیس سے زیادہ پڑھنے والوں کے متعلق فیصلہ ہوا ۔ اب بیس سے کم پڑھنے والوں کا حال سنئے ! اسی فہرست میں امام ابو مجلز رحمہ اللہ (تابعی) کے متعلق منقول ہے کہ وہ سولہ رکعتیں لوگوں کو پڑھایا کرتے تھے (اوراس سے زیادہ رکعات پڑھنے کا ان کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہے ) لہذا حنفی مذہب کی رو سے امام ابو مجلزرحمتہ اللہ علیہ اور ان کے تمام مقتدی بھی گنہگار بلکہ بدعتی ہیں ، کیونکہ سنت مؤکدہ (بیس رکعات) کے تارک ہیں ۔ چنانچہ مولانا محمد علی مونگیری لکھتے ہیں : ’’پس جب بیس رکعت کا ثبوت بطور درایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی مواظبت اس عدد پر پائی گئی تو بلا شک اس عدد کا سنت مؤکدہ ہونا ثابت ہوا ۔ اب اگر کوئی شخص بیس رکعت تراویح نہ پڑھے یا اس کے سنت مؤکدہ ہونے کا اعتقاد نہ رکھے وہ بلا شبہ بدعتی اور گنہگار ہے ‘‘ ( غایۃ التنقیح ص ۵۰) اس عبارت پر غور کیجئے ۔ یہ فتوی تین صورتوں کو شامل ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب