کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 150

ص۱۰۳ ج۱) المصابیح فی صلوٰۃ ا لتراویح میں بھی سیوطی نے اس حدیث کو معرض استدلال و احتجاج میں پیش کیا ہے ۔ (۴) علامہ زرقانی نے بھی ابن عبدالبر کا قول مذکور بلا کسی ادنیٰ انکار کے نقل کیا ہے ۔ (دیکھو زرقانی ، جلد اوّل ص۲۱۰ ج۱ طبع مصر ) (۵) علامہ شوکانی نے اس حدیث سے بلا کسی جرح کے تراویح کی تعداد پر استدلال کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں بیس والی مرفوع روایت کی تضعیف کی ہے (حوالہ پہلے گزر چکا ہے ) ۔ یہی وہ شوکانی ہیں جن کی ایک عبارت کا بالکل ادھورا ٹکڑا نقل کر کے مولانا مئوی نے یہ مغالطہ دیا ہے کہ شوکانی کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کا کوئی معین عدد ثابت نہیں ہے ۔ (۶) علامہ عینی (حنفی) نے بھی فعل نبویؐ سے رکعاتِ تراویح کا عدد معین اسی حدیث سے ثابت کیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح اور قابل احتجاج ہے ۔ (حوالہ پہلے بتایا جا چکا ہے )۔ (۷) علامہ ابن الہمام (حنفی) نے فتح القدیر جلد اوّل ص۱۸۱ میں یہ حدیث پیش کی ہے اور اس پر کسی قسم کا کلام کرنے سے بالکل سکوت اختیار کیا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ان کو بھی اس کی صحت تسلیم ہے ۔ (۹) ملا علی قاری (حنفی) نے اپنے استاذ ابن حجر مکی کا یہ قول بلا کسی ردّ و کد کے نقل کیا ہے : وفی صحیحی ابن خزیمة وابن حبان انه ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صلی بهم ثمان رکعات والوتر ۔ (مرقاة) بلکہ دوسری جگہ تو صحت کی صراحت ہی کر دی ہے ۔ لکھتے ہیں : انه صح عنه ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صلی بهم ثمان رکعات والوتر (مرقاۃ ص ۱۷۴ ج ۲) یعنی صحیح طور پر یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کی آٹھ رکعتیں پڑھائیں اور اس کے بعد وتر پڑھایا ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب