کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 151

۱۰۔ مولانا انور شاہ کشمیری (حنفی) لکھتے ہیں : اذا التراویح التی صلاها صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان بهم کانت احدی عشرة رکعة کما عند ابن خزیمة ومحمد بن نصر و ابن حبان عن جابر ثمان رکعات واوتر ثلاث هناك ایضا کما ههنا انتهی (کشف الستر ص ۲۷ ، ۳۳) یعنی ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کی جو نماز صحابہ رضی اللہ عنہ کو پڑھائی تھی وہ کل گیارہ رکعت تھی ۔ تین وتر اور آٹھ تراویح ، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ابن حبان وغیرہ میں مروی ہے … مولانا انور شاہ نے اس حدیث کو تین رکعت وتر کے ثبوت میں پیش کیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح اور قابل احتجاج ہے۔ اکابر دیوبند کی نظروں میں مولانا انور شاہ کے علم و فضل کا کیا مقام ہے ۔ یہ پہلے ہم آپ کو با حوالہ بتا چکے ہیں ۔ اس لئے ان کے اس فیصلہ کے بعد تو اب کسی دیوبندی حنفی کو اس حدیث کے قبول کرنے میں کوئی تامل ہی نہ ہونا چاہیئے، مگر ضد اور عناد کو کیا کیا جائے ۔ فائدہ : اگر کوئی کہے کہ بعض علماء کا حدیث جابر رضی اللہ عنہ کو نقل کر کے اس پر سکوت کر نانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح اور قابل قبول ہے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے مقابل مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی مئوی

  • فونٹ سائز:

    ب ب