کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 157

روایت کو بھی ذکر کرتے ہیں ‘‘ ۔ (دیکھو رکعاتِ تراویح ص۲۹) مولانا مئوی کے زعم میں عیسیٰ بن جاریہ ’’ مجروح‘‘ راوی ہے اور حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اس کا ذکر بھی کیا ہے ، لیکن اس کی ’’منکر روایات‘‘ میں اس (واقعہ ابی والی) روایت کو انہوں نے اس کتاب میں ذکر نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔ تو مولانا مئوی کے بیان کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حافظ ذہبی کے نزدیک عیسیٰ بن جاریہ کی یہ روایت اس کی ضعیف اور منکر روایات میں سے نہیں ہے ، بلکہ صحیح ، محفوظ اور قابل حجت ہے ۔ لو آپ اپنے دام میں صّیاد آ گیا قولہ : ثانیاً حضرت ابی کے اس واقعہ کو تراویح سے متعلق قرار دینا محض تحکم اور بالکل بے دلیل ہے ۔ روایت کے کسی ایک لفظ سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تراویح کا واقعہ ہے ، بلکہ اس کا گھر کے اندر کا واقعہ ہونا اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ وہ تہجد کا واقعہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر افسوس ہے کہ مولانا عبد الرحمن مبارک پوری نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ (رکعات ص۳۶) ج: جب اس روایت میں فی رمضان کا لفظ بصراحت موجود ہے تو اب مولانا مبارک پوری اس پرکیوں توجہ دیتے کہ یہ تہجد کا واقعہ ہے یا تراویح کا ۔ اس لئے کہ تہجد فی رمضان اور تراویح یہ دونوں تو ایک ہی ہیں ۔ صرف نام اور تعبیر کا فرق ہے ۔ جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے ۔ ہاں افسوس تو آپ جیسے متعصب اور جامد حنفی عالم پر ہے کہ آپ نے اس پر کوئی توجہ نہ دی کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ نماز باجماعت ادا کی تھی اور جماعت بھی تداعی او راہتمام کے ساتھ تھی ۔ یہ نہ تھا کہ انہوں نے منفردًا نماز

  • فونٹ سائز:

    ب ب