کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 158

شروع کی اور پیچھے سے کوئی آ کر مل گیا ہو ۔ اور حنفی فقہ کی رو سے غیر تراویح میں ایسی جماعت مکروہ ہے ۔ فتاویٰ قاضی خان کے حوالہ سے یہ عبارت ہم پہلے نقل کرچکے ہیں ۔ التنفل بالجماعت غیر التراویح مکروہ عندنا یعنی تراویح کے سوا دوسری نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا حنفیوں کے نزدیک مکروہ ہے ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ ان کے (یعنی حنفیہ) کے نزدیک جماعتِ نفل بتداعی مکروہ ہے‘‘ ۔ (الرأی النجیح ص۱۳) اسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کو ہمیشہ منفرد ًا پڑھتے تھے ۔ کبھی تداعی جماعت نہیں فرمائی ۔ اگر کوئی شخص آ کھڑا ہو تو مضائقہ نہیں ‘‘۔ (ص۴) اب دوحال سے خالی نہیں ، یا تو یہ کہیے کہ حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ نماز ـجو انہوں نے اپنے گھر کے اندر باجماعت ادا کی تھی اور جس کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی تو اس پر آپ نے کوئی انکار نہیں فرمایا) تہجد اور تراویح دونوں تھی ۔ (جیسا کہ اہل حدیث کہتے ہیں ) تو آپ کا یہ دعویٰ باطل ہوا کہ حضرت ابی کے اس واقعہ کو تراویح سے متعلق قرار دینا محض تحکم اور بالکل بے دلیل ہے ۔ یہ کہیے کہ حضرت ابی کی یہ نماز باجماعت صرف تہجد تھی (تراویح نہیں ) تو پھر فقہ حنفی کا مسئلہ غلط ثابت ہوا کہ تراویح کے سوا تنفل بالجماعت مکروہ ہے ، کیونکہ جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل یا تقریر سے ثابت ہو وہ مکروہ شرعی کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسری گزارش یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب (رکعاتِ تراویح) کے صفحہ ۵۶ پر تراویح کی مروجہ بیس رکعات کے ثبوت میں سب سے پہلی دلیل حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس روایت کو قرار دیا ہے کہ ’’ آنحضرت

  • فونٹ سائز:

    ب ب