کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 159

صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھتے تھے ‘‘ ۔ اس روایت پر تفصیلی گفتگو تو آگے آئے گی ، لیکن سرِدست میں ’’ علامہ‘‘ مئوی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس بیان کو تراویح سے متعلق قرار دینے کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے ؟ روایت کے تو کسی لفظ سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ خاص تراویح کا واقعہ ہے ، بلکہ بیہقی اور میزان الاعتدال وغیرہ میں تو فی غیر جماعۃ کی صراحت موجود ہے ۔ (یعنی بیس رکعتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منفردًا پڑھتے تھے ) یہ (حنفی مسلک کی رو سے) قوی قرینہ ہے اس بات کا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان تہجد کے متعلق ہے ، تراویح کے نہیں ۔کیوں کہ مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کا ارشاد ابھی گذرا کہ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد ہمیشہ منفردًا پڑھتے تھے‘‘ پس جس دلیل سے آپ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس بیان کو خاص تراویح سے متعلق ہونا ثابت کر دیں گے اسی دلیل سے ہم بھی حضرت ابی کے اس (زیر بحث) واقعہ کو تراویح سے متعلق ہونا ثابت کر دیں گے ـ۔ ماہو جوابکم فہو جوابنا ۔ ’’ علامہ‘‘ مئوی کا یہ کہنا کہ ’’ اس کا گھر کے اندر کا واقعہ ہونا اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ وہ تہجد کا واقعہ ہے‘‘ ۔ خود اپنے مذہب کے مسائل سے ناواقفیت پر مبنی ہے ۔ فقہ حنفی کا مسئلہ یہ ہے : والوادی التراویح بغیر جماعة او النساء واحدانا بیوتهن یکون تراویح کذا فی معراج الدرایه ۔ (عالمگیری ص۱۱۶ ج۱ طبع مصر) یعنی کوئی شخص بے جماعت کے پڑھے یا عورتیں اپنے گھروں میں تنہا پڑھیں تو تراویح ادا ہو جائے گی ۔ حضرت ابی کا یہ واقعہ بھی گھر کے اندر عورتوں کے ساتھ پڑھنے کا ہے ۔ جب گھر کے اندر تنہا پڑھنے سے تراویح ہو سکتی ہے تو باجماعت پڑھنے کی صورت میں وہ تراویح کیوں نہیں ہو سکتی ؟ بلکہ فقہ حنفی

  • فونٹ سائز:

    ب ب