کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 161
نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے راوی کا اپنی طرف سے اضافہ ہے ؟ اسی حوالہ کے تتمہ وتکملہ کے طور پر مجمع الزوائد کے حوالہ سے جو روایت تحفۃ الاحوذی میں نقل کی گئی ہے اب ذرا اس کے الفاظ پر بھی غور کیجئے ۔ اس میں شروع کے الفاظ یہ ہیں : رواہ ابو یعلیٰ من حدیث جابر بن عبداللہ قال جاء ابی بن کعب الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ انہ کان من اللیلة شئ یعنی فی رمضان قال وما ذاک یا ابی الحدیث (تحفۃ الاحوذی ص۷۴ ج۲) اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ جاء ابی بن کعب الی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جس کا مقولہ ہے اس کا مقولہ یعنی ’’ فی رمضان ‘‘ بھی ہے اور وہ ہیں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ان کے علاوہ اس کو کسی دوسرے راوی کا اضافہ قرار دینا محض زبردستی کی بات ہے ۔ قولہ : یعنی اصطلاحِ محدثین میں فی رمضان کا لفظ اس روایت میں مدرج ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت مسند احمد ص ۱۱۵ ج۵ (زیادات عبداللہ) میں بھی موجود ہے اور اس میں رمضان کا قطعًا ذکر نہیں ہے ۔(رکعات ص۔۔۔۔۔۔) ج: اسی لئے تو میںنے کہا ہے کہ یہ محض زبر دستی کی بات ہے ۔ اس وقت زیر بحث حضرت ابی بن کعب کا واقعہ ہے اور مسند احمدکی محولہ بالا روایت میں حضرت ابی بن کعب کا نہیں ، بلکہ کسی دوسرے صحابی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔ پھر اس کو حضرت ابی کے واقعہ کے ساتھ جوڑنا زبردستی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔ مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں :