کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 164

سب کے مدلل او رمفصل جوابات دے کر الحمدللہ ہم بحث کے اس حصہ سے فارغ ہو گئے ۔ اب آئے اس کے مقابلہ میں ذرا احناف کے ان دلائل کا بھی جو ’’علامہ‘‘ مئوی نے اپنے مذہب کے ثبوت کے لئے خاص اہتمام کے ساتھ اپنی اس کتاب میں پیش کئے ہیں ۔ احناف کے دلائل پر بحث ہم نے اس کتاب کے شروع ہی میں مولانا مئوی کی اس ہوشیاری پر متنبہ کر دیا ہے کہ انہوں نے تراویح کی بحث میں احناف کے مذہب کو پوری طرح پیش کرنے اور مستقلاً اس کو زیر بحث لانے سے گریز کی راہ اختیار کی ہے ۔ ظاہر میں تو رعب جمانے کے لئے انہوں نے ’’ جمہور امت‘‘ اور ’’دنیائے اسلام‘‘ جیسے شاندار الفاظ استعمال کئے ہیں ، لیکن حقیقت میں یہ حنفی مذہب کی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے ایک آڑ کھڑا کیا گیا ہے ۔ چنانچہ اس موقع پر بھی انہوں نے ’’ احناف کے دلائل‘‘ کے بجائے ’’ جمہور امت‘‘ کے دلائل کا عنوان قائم کیا ہے ۔ اس لئے کہ احناف جن قیود اور شرائط کے ساتھ تراویح کی بیس رکعتوں کو مسنون کہتے ہیں ان کا ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول یا فعل سے پیش کرنا ممکن نہ تھا حق تو یہ تھا کہ جس طرح ’’ علامہ ‘‘ مئوی نے اہل حدیث کے دلائل پر بحث کرنے سے پہلے اہل حدیث کے دعوؤں کو پیش کیا ہے، اسی طرح احناف کے مسلک کی تائید میں بھی دلائل ذکر کرنے سے پہلے وہ اس باب میں احناف کے پورے مذہب کو صاف صاف پیش کرتے ۔ پھر جودلائل لاتے ان کو اس مذہب پر منطبق کرکے دکھاتے ، لیکن مولانا خوب سمجھتے تھے کہ اس ذمہ داری سے وہ عہدہ برآ نہ ہو سکیں گے ا سلئے کمال دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے انہوں نے سرے سے یہ ذمہ داری اپنی سر کی ہی نہیں ۔ اب تو انہوں نے صرف ’’دلائل‘‘ پیش کر

  • فونٹ سائز:

    ب ب