کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 165

دئیے ہیں ۔ رہا یہ سوال کہ یہ ’’ دلائل‘‘ حنفی مذہب کے دعؤوں کے مطابق بھی ہیں یا نہیں ؟ تو اس سے ان کوکوئی سروکار نہیں۔ مگر ہم تو جو گفتگو کریں گے وہ قواعد او راصول کے ماتحت ہی کریں گے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان دلائل پر بحث کرنے سے پہلے ہم حنفی مذہب کے دعوؤں کی طرف اپنے ناظرین کی توجہ مبذول کرائیں ۔ تراویح کی بیس اور اس سے زائد رکعتوں کی بابت حنفیہ کا مسلک کیا ہے ؟ اس کوکسی قدر تفصیل کے ساتھ ہم اس کتاب کے شروع میں بتا چکے ہیں ۔ یہاں مختصراً اتنا سمجھ لیجئے کہ ان کے نزدیک تراویح کی بیس رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں ۔ اسی طرح ان کا باجماعت ادا کرنا بھی سنتِ مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کا حکم یہ ہے کہ وہ عمل کے اعتبار سے واجب کے قریب تر ہے ۔ اس کا تارک گنہگار اور شفاعتِ نبویؐ سے محروم ہے ، بلکہ ’’ علیٰ قول بعض‘‘ بدعتی ہے ۔ (ان سب باتوں کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے )۔ ان دعوتوں کو سامنے رکھ کر اب ذرا ان دلیلوں پر غور کیجئے جو ’’علامہ‘‘ مئوی نے اس موقع پر اپنے مذہب کے ثبوت کے لئے پیش کی ہیں ۔ان کی سب سے پہلی دلیل جو گویا ان کے نگاہ میں بڑی اہم اور بنیادی دلیل ہے ۔ ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کی وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعتیں اور وترپڑھتے تھے ‘‘۔ (رکعات ص۵۶) ۔ اس حدیث کے ایک لفظ کے اظہار سے گریز : اس حدیث کے حوالہ کے لئے مولانا مئوی کا اصل اعتماد دو کتابوں پر ہے

  • فونٹ سائز:

    ب ب