کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 168

سے کہیے ! کیا ’’فی غیر جماعۃ‘‘ کا لفظ ہوتے ہوئے اس حدیث کو حنفی مذہب کی دلیل میں پیش کیا جا سکتا ہے ؟ تعجب ہے ’’علامہ‘‘ مئوی کی اس ڈھٹائی اور دیدہ دلیری پر کہ کیسے انہوں نے اس حدیث کو حنفی مذہب کی سب سے پہلے اور بنیادی دلیل قرار دے دیا ؟ جب کہ انہوں نے بہیقی کا حوالہ صفحہ اور جلد کی قید کے ساتھ دیاہے ۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ بہیقی میں انہوں نے یہ حدیث اور اس کے پورے الفاظ دیکھ کر یہ حوالہ دیاہے ۔ حیرت انگیز بے باکی :۔ ان سے بڑھ کر حیرت تو اس بے باکی اور جرأت پر ہوتی ہے کہ آٹھ رکعت تراویح (بلا وتر)کے ’’سنت‘‘ ہونے سے انکار کیا جاتا ہے ۔ جس کا باجماعت ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اور تقریر سے ثابت ہے ۔ اور بیس رکعت باجماعت ادا کرنے کو ’’سنت‘‘ ہی نہیں بلکہ ’’سنتِ مؤکدہ‘‘ کہا جاتاہے جس کے ثبوت میں کوئی مرفوع حدیث ضعیف تک موجود نہیں ہے ، صحیح تو کجا ؟ ؎ خامہ انگشت بد نداں کہ اسے کیا لکھیے ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہیے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انفرادًا بھی بیس(۲۰) رکعات کا پڑھنا ثابت نہیں ہے :۔ ہماری اس گرفت سے گھبرا کر کوئی حنفی یہ کہنے لگے کہ خیر باجماعت نہ سہی بغیر جماعت کے اور انفرادًا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعت تراویح کا پڑھنا اس حدیث سے ثابت ہو جاتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جی نہیں ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انفرادًا اور بغیر جماعت کے بھی بیس رکعات کا پڑھنا ثابت نہیں ہے ۔ کیونکہ مذکورہ بالا روایت باقرارِ علماء احناف بالااتفاق ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے ۔ اس حدیث کی بابت اب

  • فونٹ سائز:

    ب ب