کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 17

 بجائے اس کے کہ خاص حنفی مذہب کو زیر بحث لاتے ’’دنیائے اسلام ‘‘ اور ’’جمہور امت ‘‘ جیسے رعب جمانے والے الفاظ کی بھول بھلیوں میں ذہنوں کو الجھانے کی کوشش کیوں کی ہے ۔ ؎ بے خودی بے سبب نہیں غالب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے دعویٰ اوردلیل میں مطابقت نہیں مولانا حبیب الرحمن صاحب نے ہمیں مرعوب کرنے یا عوام کو فریب دینے کے لئے دعوے تو بڑے طنطنے کیساتھ یہ کیا کہ تقریباً ساڑھے بارہ سو برس تک تمام مسلمانانِ اہل سنت بیس اور بیس سے زائد ہی کو ’’سنت اور قابل عمل سمجھتے رہے ‘‘۔ مگر دلیل میں صرف یہ پیش کیا گیا کہ فلاں نے بیس رکعتیں پڑھیں یا پڑھائیں اور فلاں نے ۳۶ ۔ فلاں نے ۴۰ ۔ فلاں نے ۲۴ وغیرہ ۔ بتائیے یہ دھاندلی نہیں تو او ر کیا ہے ۔ ۲۰ ، ۲۴، ۴۰ وغیرہ رکعتیں پڑھنے یا پڑھانے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ان سب حضرات نے آٹھ رکعتوں کے’’سنت نبویؐ ‘‘ ہونے سے انکار کیا ہے اور بیس یا اس سے زیادہ رکعتیں انہوں نے رکوع اورسجود کی زیادتی کے شوق میں نفل سمجھ کر ادا کی تھیں بلکہ ’’سنت نبوی‘‘ سمجھ کر پڑھتے رہے اور سنت بھی سنت مؤکدہ جس کا تارک گنہگار اور محروم شفاعت ہے ۔ نزاع تو اسی میں ہے ۔ نزاعی امر سے کترا کر ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنا اہل علم کی شان سے بعید ہے ۔ بیس یا اس سے کم و بیش رکعتوں کا پڑھنا یہ ہر گز اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ اس کے پڑھنے والے آٹھ رکعتوں کو سنت نہیں سمجھتے تھے ۔یہ تنگ

  • فونٹ سائز:

    ب ب