کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 170

یعنی اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے اور یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے معارض بھی ہے جو صحیحین میں مروی ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے حالات کو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ جانتی تھیں ۔ (۴) علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں : وهو معلول بابی شیبة ابراهیم بن عثمان جد الامام ابی بکر بن ابی شیبة وهو متفق علیٰ ض عفه ولینه ابن عدی فی الکامل ثم انه مخالف للحدیث الصحیح عن ابی سلمة بن عبدالرحمن انه سال عائشه الحدیث .(نصب الرایہ ص۲۹۳) یعنی ابو شیبہ کی وجہ سے یہ حدیث معلول (ضعیف) ہے اور اس کے ضعف پر سب محدثین کا اتفاق ہے او رابن عدی نے اس کو لین کہا ہے اور یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث کی مخالف بھی ہے ۔ (لہٰذا قابل قبول نہیں ہے) فیقبل الصحیح ویطرح غیره کذا فی التعلیق الممجد عند نقل هٰذا الکلام عن الزیلعی وابن الهمام وغیرهما. (۵) ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں : واما ما روی ابن ابی شیبة فی مصنفه ۔۔۔۔۔ فضعیف بابی شیبة ابراهیم بن عثمان جد الامام ابی بکر بن ابی شیبة متفق علیٰ ضعفه مخالفته للصحیح ۔ (فتح القدیر جلد اول ص۳۳۳ طبع مصر) یعنی یہ حدیث ضعیف ہے اور ابو شیبہ کے ضعف پر سب متفق ہیں ۔نیز

  • فونٹ سائز:

    ب ب