کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 172
والی روایت کے یہ معارض بھی ہے ۔ لہٰذا یہ حجت کے قابل نہیں ہے ۔ (۸) مولانا عبد الحئ لکھنوی حنفی نے بھی اپنے مجموعہ فتاویٰ میں صراحۃً اس حدیث کو ضعیف لکھا ہے ۔ (دیکھو جلد اوّل ص۳۵۴) (۹) مولانا انور شاہ کشمیری فرما تے ہیں : واما النبی صلی اللہ علیہ وسلم فصح عنہ ثمان رکعات واما عشرون رکعة فہو عنہ صلی اللہ علیہ وسلم بسند ضعیف وعلیٰ ضعفہ اتفاق انتہیٰ . (العرف الشذی ص۳۲۰) یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کی آٹھ ہی رکعتیں صحیح طور پر ثابت ہیں ، بیس رکعت والی روایت کی سند ضعیف ہے اور ایسی ضعیف ہے کہ اس کے ضعف پر سب کا اتفاق ہے ۔ (۱۰) مولانا محمد زکریا کاندھلوی حنفی اپنی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں : لا شک فی ان تحدید التراویح فی عشرین رکعة لم یثبت مرفوعا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بطریق صحیح اصول المحدثین وما ورد فیہ من روایة ابن عباس فمتکلم فیہا علی اصولہم انتہیٰ . (اوجز المسالک جلد اوّل ص۳۹۷) یعنی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تراویح کی بیس رکعتوں کی تحدید و تعیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصولِ محدثین کے طریق پر ثابت نہیں ہے اور جو روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیس رکعات کے متعلق مروی ہے وہ باصول محدثین مجروح اور ضعیف ہے ۔ (۱۱) خود مؤلف ’’ رکعات تراویح) مولانا حبیب الرحمن مئوی کو بھی ہزار ہیرا پھیری کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے ۔ چنانچہ لکھتے