کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 174

کے واسطہ سے ابن ابی لیلیٰ کا یہ بیان روایت کیا تھا کہ صفین میں ستر بدری صحابی شریک تھے ، مگر جب شعبہ نے حکم سے مذاکرہ کیا تو ایک سے زیادہ بدری صحابی کی شرکت معلوم نہ ہو سکی ۔ تو اس ابراہیم کا جھوٹ کیوں کر ثابت ہوا ۔ ان کا جھوٹ تو جب ثابت ہوتا کہ شعبہ جب حکم سے مذاکرہ کرنے گئے تھے تو وہ یہ کہتے کہ میں نے ابراہیم سے یہ بیان نہیں کیا ۔ مگر شعبہ حکم کا انکار نقل نہیں کرتے ، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ مذاکرہ سے صرف ایک صحابی ثابت ہوا ۔ لہٰذا اس سے یہ تو پتا چلتا ہے کہ حکم نے ضرور بیان کیا تھا ، مگر مذاکرہ کے وقت وہ ستّر کا نام نہیں بتا سکے ۔ ایسی صورت میں الزام جو کچھ عائد ہو گا وہ حکم پر نہ کہ ابراہیم پر ‘‘۔ (رکعات ۵۷) اس اعتراض کا جواب : مولانا ! حافظ ذہبی کے اس بیان پر ذرا غور کیجئے ۔ واقعہ کی صورت یہ ہے کہ ابراہیم نے حکم سے یہ قول نقل کیا کہ صفین میں ستر بدری صحابی شریک تھے اور ابراہیم ہی نے یہ بھی بیان کیا کہ حکم نے یہ بات ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ہے ۔ اب شعبہ کہتے ہیں کہ ابراہیم کا یہ بیان جھوٹ ہے ۔ بس اس لئے کہ میں نے خود حکم سے اس کے بارے میں مذاکرہ کیا تو ہم نے سوائے خزیمہ کے کوئی ایسا بدری صحابی نہیں پایا جو صفین میں حاضر رہا ہو ۔ یعنی اس مذاکرہ میں دو چار صحابہ رضی اللہ عنہ کی تعداد بھی ثابت نہ ہو سکی ۔ ستر تو بڑی بات ہے ۔ لہٰذا حکم کی طرف سے اس تعداد کے بیان کی نسبت کرنا جھوٹ ہے ۔ رہی یہ بات کہ ’’ ابراہیم کا جھوٹ اس وقت ثابت ہوتاہے جب حکم نے اس بیان سے انکار کیا ہوتا ‘‘ ۔ تو گزارش یہ ہے کہ انکار تو جب کرتے کہ شعبہ نے اپنے مذاکرہ میں ان سے یہ پوچھا ہوتا کہ آپ نے ابراہیم سے یہ بیان کیا ہے یا نہیں؟ اگر انہوں نے یہ سوال کیا ہوتا تو ا س کو ’’ مذاکرہ‘‘ سے تعبیر نہ کرتے ۔ اہل علم سمجھ سکتے ہیں کہ اس قسم کے سوال کو ’’ مذاکرہ‘‘ نہیں کہا جاتا ۔ ’’ مذاکرہ‘‘ کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبہ اور حکم کی گفتگو اس موضوع پر نہ تھی کہ حکم نے ابراہیم سے یہ بیان کیا ہے یا نہیں ، بلکہ گفتگو اس موضوع پر تھی کہ جنگِ سفین میں کتنے بدری صحابی شریک تھے ۔ اور بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں ان دونوں حضرات نے اپنی اپنی معلومات پیش کی تھیں ۔ اسی لئے اس کو ’’مذاکرہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور نتیجہ میں بھی فما وجدنا شہد صفین احد من اہل بدر غیر خزیمۃ کہا ہے ۔ (یعنی ہم نے سوائے خزیمہ کے کوئی ایسا بدری صحابی نہیں پایا جو صفین میں حاضر رہا ہو ۔ اس عبارت میں فما وجدنا (ہم نے نہیں پایا ) کا لفظ خاص طور سے قابل غور ہے ۔ یہ نہیں کہا کہ : فما اخبرنا باحد ممن شهد صفین من اهل بدر غیر خزیمة (یعنی مذاکرہ کے وقت حکم مجھ کو خزیمہ کے سوا کسی دوسرے کا نام نہ بتا سکے ) ۔ پس ’’ علامہ‘‘ مئوی کا یہ کہنا کہ ’’ حکم نے ابراہیم سے ضرور بیان کیا تھا‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نرا تحکم اور محض بے دلیل دعویٰ ہے اور عبارت کے ظاہرالفاظ کے بالکل خلاف ہے اور وہ بیان کیسے کرتے جب کہ ان کو خود ہی اس تعداد کا علم نہ تھا ۔ جیسا کہ شعبہ نے بتایا ۔ ’’علامہ‘‘ مئوی کی یہ دیدہ دلیری بھی قابل داد ہے کہ ایک طرف تو بقول ان کے شعبہ جیسا محتاط اور پرہیزگار عالم ہے ‘‘ ۔ جو ابراہیم اورحکم دونوں کا شاگرد ہے اور دونوں کے حالات سے پو ری طرح باخیر ہے وہ اپنی ذاتی معلومات اور پوری واقفیت کی بنا پر اس واقعہ کا سارا الزام ابراہیم پر عائد کرتا ہے ۔ او رحلف کے ساتھ کہتا ہے کذب والله (بخدا ابراہیم نے جھوٹ کہا ہے) اور

  • فونٹ سائز:

    ب ب