کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 176

دوسری طرف ’’علامہ‘مئوی ہیں جو آج سینکڑوں برس کے بعد مجض ظن و تخمین سے یہ فیصلہ صادر فرما رہے ہیں کہ ’’ ایسی صورت میں الزام جو کچھ عائد ہو گا وہ حکم پر نہ کہ ابراہیم پر‘‘ ۔ جل جلالہ قولہ : پھر حافظ ذہبی نے شعبہ کے اس بیان کو بھی ایک ہی صحابی ثابت ہو سکا ، یوں ردّ کر دیا کہ صفین میں حضرت علی اور حضرت عمار بالیقین شریک تھے تو ایک ہی کیسے ثابت ہوا ۔ کم سے کم تین کہیے ۔ یعنی اسی طرح اور تحقیق کیجئے تو ممکن ہے اور نکل آئیں ‘‘۔ (رکعات ص۵۸) ج: حافظ ذہبی کے اس اعتراض نے تو شعبہ کی تکذیب کو اور قوت پہنچا دی ۔ اس لئے ہ جس شخص کو ایسے مشہور صحابہ کی شرکت بھی یاد نہ آئے اور وہ تین کی تعداد بھی نہ بتا سکے بھلا وہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ستر بدری صحابی صفین میں شریک تھے ۔ ا سکے تو صاف معنی یہ ہیں کہ اس کی طرف تعداد کے بیان کرنے کی نسبت کرنا یقینا جھوٹ ہے ۔ رہا یہ کہ ’’تحقیق سے ممکن ہے اور نکل آئیں‘‘ تو حضرت وہ آپ کی تحقیق کا نتیجہ ہوں گے حکم کی تحقیق کا نہیں ۔ اور یہاں زیر بحث حکم کی تحقیق اور بیان ہے ۔ زید وبکر کی تحقیق نہیں ۔ قولہ : بہر حال اس بیان سے شعبہ کی تکذیب کا ناقابل قبول ہونا واضح ہو گیا ۔ (رکعات ص۵۸) ج: جی نہیں ! اس بحث کے بعد تو شعبہ کی تکذیب کا حق ہونا او رزیادہ محقق اور مدلل ہو گیا ۔ اسی لئے آج تک کسی محدث او رفقیہ نے شعبہ کی اس تکذیب کو ناقابل قبول قرار نہیں دیا ۔ خودحافظ ذہبی نے بھی اس تکذیب کو مردود نہیں

  • فونٹ سائز:

    ب ب