کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 183

قولہ : اب رہی قوتِ حافظہ تو ابن عدی کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیم کا حافظہ بھی بہت زیادہ خراب نہ تھا ۔ اس لئے کہ ابن عدی نے اقرار کیا ہے کہ ابراہیم کی مرویات میںدرست اور ٹھیک حدیثیں بھی ہیں ۔ (رکعات ص۵۹) ج: لیکن ابن عدی نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ یہ حدیث (جس کو آپ نے اپنے مدعا کی سب سے پہلی دلیل قرار دے کر اس موقع پر پیش کیا ہے ) ابراہیم کی ان حدیثوں میں سے نہیں ہے جو درست اور ٹھیک ہیں ۔ یہ تو ابراہیم کی مناکیری میںسے ہے ۔ جیساکہ علامہ عینی نے لکھاہے واورد له ابن عدی هٰذا الحدیث فی الکامل فی مناکیره یعنی ’’ابن عدی نے کامل میں ابو شیبہ کی اس حدیث کو اس کی مناکیر میں ذکر کیا ہے ‘‘۔ گو ابراہیم کا حافظہ ’’ بہت زیادہ خراب‘‘نہ سہی ، تاہم جتنا کچھ بھی خراب ہے ا س کا اثر اس حدیث پر بھی پڑا جو غریب حنفی مذہب کا بظاہر سہارا سمجھی گئی ۔ اس لئے یہ سہارا بھی ٹوٹ گیا اور اب مرفوع حدیث کے نام سے کوئی سہارا باقی نہ رہا ۔ (فائدہ) جس طرح ابو شیبہ اس حدیث (زیر بحث) کی روایت میں منفرد ہیں اسی طرح یزید بن ہارون اور ابن عدی کے مذکورہ بالا بیانوں کو ابو شیبہ کی تعدیل و توثیق قرار دینے میں ’’علامہ‘‘ مئوی متفرد ہیں ۔ کسی محدث نے بھی ان صفتوں کی بناء پر ابو شیبہ کی توثیق نہیں کی ہے ۔ یزید بن ہارون کے اس قول کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب