کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 188

ہے ۔ نیز اس کے آخر میں امام بیہقی نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ حدیث صحیحین میں بھی ہے ۔گویا یہ اشارہ ہے کہ اس بات کی طرف کہ یہ روایت اعلیٰ درجہ کی صحیح ہے ۔ اس لئے باب میں قابلِ اعتماد اور لائق استدلال یہی روایت ہے ۔ ا س کے بعد بیس رکعات والی (زیر بحث) روایت لائے ہیں جس کے آخر میں صاف صاف لکھ دیا ہے کہ یہ ضعیف ہے ۔ گویا ا س باب میں اس کو ذکر کرنے سے امام بیہقی کا مقصد یہی تھا کہ دنیا کو اس کے ضعف پر متنبہ کر دیں ۔ تاکہ کوئی ناواقف مولانا مئوی جیسے لوگوں کے بھرے میں آ کر مغالطہ میں نہ پڑ جائے ۔ اگر اس روایت کو امام بہبقی نے اس باب میں ذکر نہ کیا ہوتا تو وہ اس کا یہ عیب کس طرح ظاہر کرتے کہ اس کا بنیادی راوی ضعیف ہے ۔ نیز ا س حقیقت کی نقاب کشائی کس طرح ہوتی کہ ا س کے متن میں ’’ فی غیر جماعۃ‘‘ کی زیادتی بھی ہے جس کو ظاہر کرنے سے بعض تنگ نظر او رمتعصب حنفی شرماتے ہیں ۔ اللہ کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں امام بہیقی اور ان جیسے تمام محدثین پر جنہوںنے اس قسم کی تمام فسوں کاریوں کا پردہ فاش کر دیا ۔ سچ کیا ہے حالیؔ مرحوم نے : ؎ گروہ ایک جویا تھا علمِ نبی کا لگایا پتا جس نے ہر مفتری کا نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذب خفی کا کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا کیے جرح و تعدیل کے وضع قانوں نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں (تنبیہ) یہ بات اس موقع پر قابل ذکر ہے کہ مولانا مئوی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے اس بیان پر بحث کے سلسلے میں کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ہم لوگوں کو آٹھ رکعات تراویح اور وتر پڑھایا ‘‘۔ عیسیٰ بن جاریہ پر طویل گفتگو کی ہے۔ اور انہی

  • فونٹ سائز:

    ب ب