کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 19

نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں ’’ وهم در طحطاوی بعد نقل کلام فتح القدیر مثل کلام بحر الرائق گفته ‘‘ یعنی : فاذن یکون المسنون علیٰ اصول مشائخنا ثمانیة منها والمستحب اثنا عشرة انتہی (مسسک الخنام جلد اوّل ص۲۸۸) دیکھئے یہ تینوں ائمۂ احناف یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ بیس رکعات تراویح میں سے آٹھ رکعتیں تو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باقی مستحب ہیں ۔ مؤلف ’’ رکعات تراویح‘‘جیسے متصلب حنفی ہزار کوشش کریں ، مگر صحابہ اور تابعین کے اقوال سے وہ ہر گزا س بات کا ثبوت پیش نہیں کر سکتے کہ ان کے نزدیک تراویح کی آٹھ رکعتیں ’’ سنت‘‘ نہیں ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ بیس یا بیس سے زائد رکعتوں ہی کو ’’ سنت نبوی‘‘ سمجھتے تھے ۔ یقینا یہ دعوی بلادلیل اور نرا مغالطہ ہے ۔ تحقیقی جواب : یہ جو کچھ بھی ہم نے عرض کیا ہے اس کی نوعیت ’’ ساڑھے بارہ سو سالہ عمل‘‘ والی مرعوب کن او رجذاتی دلیل کے الزامی جواب کی ہے اب اس کا تحقیقی جواب سنئیے ۔ اوّلاً : اس وقت تک اسلام کی زندگی ۱۳۷۷ سال کی ہو چکی ہے اور بیس رکعات یا اس سے زائد کا رواج بقول علامہ مؤی صرف ساڑھے بارہ سو سال سے شروع ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کی زندگی کے ایک سو ستائیس برس کے بعد یہ عمل جاری ہوا ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا زمانہ اور اس کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب