کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 195

یہی حال ہر چہار ائمہ مجتہدین کا ہے ۔ ان میں سے کسی امام سے یہ ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح کی بنیاد اور دلیل حدیث اور ابوشیبہ کو قرار دیا ہو ۔ حتی کہ خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ انہوں نے اس عمل کے لئے حدیث ابوشیبہ کو ماخذ بتایا ہو ۔ ’’علامہ‘‘ مئوی یا کسی دوسرے حنفی عالم میں اگر دم ہے تو کم ازکم اپنے ہی امام سے اس کا ثبوت دیدیں ۔ پس جب بیس رکعات پر عمل کرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہ یا تابعین رحمہ اللہ یا ائمہ دین سے یہی ثابت ہی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے عمل کا متمسک حدیث ابوشیبہ کو قرار دیا ہو۔ تو پھر ’’اس حدیث پر ان کے عمل‘‘ اور ’’تلقی بالقبول‘‘ سے اس کے ضعف کو دور کرنے کا خواب کس طرح شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے ؟ یہ بالکل ایک بے حقیقت افسانہ ہے جو محض عوام کو مغالطہ دینے کے لئے پیش کیا گیا ہے ۔ یہ واضح رہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہ کے بیس رکعات پر عمل کرنے کی تحقیقی بحث آئندہ آئے گی ۔ یہاں جو کچھ ہم نے عرض کیا ہے یہ علی سبیل الفرض ہے نیز یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ یہ نقض ہم نے ’’فی جماعۃ‘‘ کی قید کو نظر انداز کر کے وارد کیا ہے ورنہ اس قید کا لحاظ کرنے کے بعد تو ابوشیبہ والی حدیث کا لگاؤ ’’مسلمانوں کے علانیہ عمل‘‘ کے ساتھ بالکل باقی نہیں رہتا ۔ اس لئے اس ’’عمل‘‘ سے حدیث ابوشیبہ کے ضعف کے دور ہو جانے کا خواب ، بس خواب ہی خواب اور ہوس ہی ہوس ہے ۔ ان سب کے آخر میں مجھے یہ بھی بتا نا ہے کہ امام سیوطی رحمہ اللہ نے صاف صاف لکھا ہے کہ ’’اجماع‘‘ کی موافقت کسی حدیث کی صحت کی دلیل نہیں ہے ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : مما لا یدل علی صحة الحدیث ایضا کما ذکره اهل الاصول موافقة الا جماع له علی الاصح لجواز ان یکون المستند غیره (تدریب الراوی ص ۱۵)

  • فونٹ سائز:

    ب ب