کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 197
اچھی طرح مطلع ہو جانے کے باوجود بھی ان کی تقلید سے باز نہیں آتے اور اس کی بات نہیں مانتے جس کے مذہب کی تائید قرآن و سنت اور قیاس صحیح سے ہوتی ہے، بلکہ الٹے ظا ہرکتاب و سنت سے جان چھڑانے کے لئے طرح طرح کے حیلے ڈھونڈتے ہیںاور اپنے امام کے قول کی حمایت میں قرآن اور حدیث کی غلط اور باطل تاویلیں کرتے ہیں‘‘ ۔ علامہ فلانی فرماتے ہیں : فتری کل واحد منہم یعظم امامہ المجتہد تعظیما لا یبلغ بہ احد من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم واذا وجد حدیثا یوافق مذہبہ فرح بہ وانقاد لہ و سلم وان وجد حدیثا صحیحاً سالماً من النسخ والمعارض مؤید المذہب غیر امامہ فتح لہ باب الاحتمالات البعیدة و ضرب عنہ الصفح والعارض ویلتمس لمذہب امامہ او جہاً من الترجیح انتہی (ایقاظ ہہم اولی الابصار ص ۱۰۹) ’’یعنی مقلدین کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے امام کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسی صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہ کی تھی ۔ کسی امام کا مقلد جب کوئی حدیث اپنے امام کے مذہب کے موافق پاتا ہے تو خوش ہو کر اس کو قبول کرلیتا ہے ، لیکن یہی شخص جب کوئی حدیث اپنے امام کے علاوہ کسی دوسرے کے مسلک کی تائید میں پاتا ہے تو اس کے قول کرنے سے اعراض کرتا ہے اور اس سے جان چھڑانے کے لئے طرح طرح کی بعید تاویلوں کے دروازے کھولتا ہے اور اس حدیث کے مقابلہ میں اپنے امام کے مذہب کو راجح ثابت کرنے کے دلیلیں ڈھونڈتا ہے حالانکہ وہ حدیث اپنی جگہ بالکل صحیح اور قابل قبول ہوتی ہے ‘‘ ۔