کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 199

رجل مذموم ، منکر الحدیث ، متروک الحدیث ، ترکوا حدیثہ لا یکتب حدیثہ ، ساقط ارم بہ وغیرہ سخت جرحوں سے مطعون کیا گیا ہو ۔ ثانیاً ابوشیبہ کی جو حدیث اس وقت زیر بحث ہے اس کے متعلق صحابہ رضی اللہ عنہ اور تابعین کے اقوال سے ’’تلقی بالقبول‘‘ کا ثبوت نہیں نہیں ہے ۔ اس لئے مولانا امرتسری رحمہ اللہ کے اس قول حدیث ابوشیبہ کی بابت فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا یقینا ناسمجھی ہے یا تجاہل ۔ قولہ : بعض بعض مسائل ایسے بھی ہیں کہ ان کے باب میں سوائے ایک ضعیف حدیث کے دوسری کوئی چیز موجود نہیں ہے مگر ساری امت کا عمل اسی پر ہے … … مثلا …… (رکعات ۶۱) ج : یہ بات بھی یہاں بالکل بے موقع پیش کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ تراویح کی رکعات کی تعداد کے باب میں صحیح حدیثیں موجود ہیں۔ اس لئے یہ مسئلہ ان مسائل میں سے نہیں ہے جن کے باب میں ’’سوائے ایک ضعیف حدیث کے دوسری کوئی چیز موجود نہیں ہے ‘‘ اور جب صحیح حدیثیں موجود ہیں تو اب اس مسئلہ میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ اسی واسطے کسی صحابی یا کسی تابعی یا کسی ذمہ دار محدث سے اس قسم کا کوئی قول منقول نہیں ہے کہ والعمل علی حدیث ابی شیبة فی هذا الباب یعنی رکعات تراویح کے باب میں ابو شیبہ کی حدیث پر لوگوں کا عمل ہے ۔ جیسا کہ امام ترمذی نے میراث کے اس مسئلہ کی بابت جس کو آپ نے اس موقع پر مثال میں پیش کیا ہے کہا ہے والعمل علی هذا الحدیث عندا اهل العلم ۔ یعنی اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے ۔ قولہ : ابو شیبہ کی اس حدیث پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ صحیحین کی حدیث ما کان یزید فی رمضان ولا فی غیره علی احدی عشرة رکعة (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے) کی مخالف ہیے ، مگر یہ اعتراض سراسر غفلت اور ذہول پر مبنی ہے ۔ (رکعات ص ۶۱، ۶۲) ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب