کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 200
ج : تعجب ہے کہ مولانا مئوی نے اس موقعہ پر اپنی عادت کے خلاف ان علماء کے نام کیوں نہیں بتائے جنہوں نے ابوشیبہ کی اس حدیث پر یہ اعتراض وارد کیا ہے ۔ کہیں اس کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ اس ’’سراسر غفلت اور ذہول پر مبنی اعتراض‘ ‘ کرنے والوں میں خود احناف کے بڑے بڑے علماء بھی شامل ہیں ۔ وہ علماء جن میں ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر ایوانِ حنفیت کا صدر نشین اور قصرِ حنفیت کا ایک مظبوط ستون ہے ۔ مثلاً علامہ ابن الہمام المتوفی ص ۸۶۱ھ اور علامہ زیلعی المتوفی ۷۶۲ ھ ۔ علماء احناف میں علامہ ابن الہمام کا علمی مقام کتنا اونچا ہے اس کا اندازہ مولانا عبدالحئی حنفی لکھنوی رحمہ اللہ کے مندرجہ ذیل بیان سے ہو سکتا ہے ۔ لکھتے ہیں : عدہ ابن نجیم فی بحر الرائق من اہل الترجیح و بعضہم من اہل الاجتہاد وہو رای نجیح تشہد بذلک تصانیفہ و توالیفہ انتہی (فوائد بہیہ ص۶۵) ابن نجیم نے ابن الہمام کو اہل ترجیح میں شمار کیا ہے جو اصطلاحاً مجتہد کا ایک درجہ ہے اور بعض نے تو ان کو مجتہد ہی کہا ہے اور یہ رائے بالکل صحیح ہے، ان کی تصانیف اس کی شاہد ہیں ۔ علامہ زیلعی کے متعلق لکھتے ہیں : کان من علماء الاعلام و برع فی الفقہ والحدیث مات سنة۲ ۷۶ لہ تخریج احادیث الہدایہ وغیرہ …و تخریجہ شاہد علی تجرہ فی فن الحدیث و اسماء الرجال و وسعة نظرہ فی فروع الحدیث الی الکمال ولہ فی مباحث الحدیث انصاف لایمیل الی الاعتساف انتہی . (فوائد بہیہ ص ۸۲)