کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 201

علماء اعلام میں سے تھے ، فقہ اور احادیث میں ممتاز تھے ۔ ہدایہ وغیرہ کی حدیثوں کی تخریج کی ہے ۔ ( یعنی ان کا پتہ بتایا ہے کہ حدیث کی کن کن کتابوں میں یہ ملیں گی ) ان کی تخریج سے رجال اور حدیث کے فن میں ان کے تجر اوروسعت نظر کا پتہ لگتا ہے ۔ حدیث کے مباحث میں انہوں نے انصا ف سے کام لیا ہے ان میں ضد اور عصبیت نہ تھی ‘‘۔ مولانا لکھنوی مرحوم نے ابن الہمام کے متعلق بھی یہی بات لکھی ہے کہ ان میں مذہبی تعصب نہ تھا ۔ ان کے الفاظ یہ ہیں : قد سلك فی اکثر تصانیف لا سیما فی فتح القدیر مسلك الانصاف متجنباً عن التعصب المذهبی والاعتساف الا ماشاء الله انتهی ۔ (فوائد بہیمہ ص۶۵) ’’ یعنی ابن الہمام رحمہ اللہ نے اپنی اکثر تصانیف بالخصوص فتح القدیر (شرح ہدایہ) میں مذہبی تعصب اور عناد سے ہٹ کر انصاف کی راہ اختیار کی ہے ۔‘‘ شائد یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو اس بات کے اعتراف کرنے کی توفیق دی کہ ابو شیبہ کی یہ حدیث ضعیف ہے ۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث کے مخالف بھی ہے ۔ ( اس لئے قابل قبول نہیں ہے ) اگر ’’علامہ ‘‘ مؤی کی طرح یہ لوگ بھی ضدی اور معاند حنفی ہوتے تو

  • فونٹ سائز:

    ب ب