کتاب: انوار المصابیح بجواب رکعات تراویح - صفحہ 202
کبھی ان کی زبان ِ قلم سے یہ بات نہ نکلتی کہ اس ’’ سراسر غفلت اور ذہول پر مبنی اعتراض ‘‘ وارد کرنے والوںمیں مشہور محدث حافظ ابن حجر رحمہ اللہ المتوفی ۸۵۲ ھ بھی ہیں ۔ بلکہ بقول مولانا عبدالحئی لکھنوی جماعۃ من العلماء (علماء کی ایک جماعت ہے کذا فی التعلیق الممجد) فتح الباری کے حوالہ سے حافظ کا یہ کلام پہلے نقل ہو چکا ہے ۔ اس لئے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں حافظ کی علمی شان کی طرف کچھ اشارہ ضروری ہے ۔ مولانا عبدالحئی ان کی شان میں لکھتے ہیں : وکل تصانیفہ تشہد بانہ امام الحافظ محقق المحدثین زبدة الناقدین لم یخلف بعدہ مثلہ انتہی ۔ (تعلیقات فوائد بہیہ ص ۱۲) یعنی ان کی تمام تصانیف اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ وہ حفاظ حدیث کے امام محدثین میں بڑے محقق اور حدیثوں کے پرکھنے والوں میں سب سے بہتر تھے ۔ اپنے بعد انہوں نے اپنے جیسا کوئی عالم نہیں چھوڑا‘‘۔ علامہ سیوطی المتوفی ۹۱۱ھ لکھتے ہیں : انتہت الیہ الرحلة والریاسة فی الحدیث فی الدنیا باسرہا فلم یکن فی عصرہ حافظ سواہ انتہی (حاشیہ شرح نخبہ ص۲ ) یعنی ساری دنیا میں حدیث کے فنون کی سرداری انہی پر ختم ہوگئی ۔ ان کے زمانہ میں ان کے سوا کوئی دوسرا حافظ ِ حدیث نہ تھا‘‘۔ ان گذارشات کے پیش کرنے سے ہمارا منشاء صرف یہ دکھانا ہے کہ یہ حضرات اتنے گئے گذرے نہیں ہیں کہ مولانا حبیب الرحمن اعظمی جیسے لوگ ان کو منہ چڑائیں ۔